صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 275
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ ۲۷۵ -٦ كتاب التفسير / تبارك الذي کوئی نقص دکھائی نہیں دے گا۔اگر یہ کائنات از خود پیدا ہوئی ہوتی تو کہیں کسی رخنہ کے آثار دکھائی دینے چاہیئے تھے بلکہ اکثر فتور ہی دکھائی دینا چاہیئے تھا۔اگر اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کے کسی مزعومہ شریک نے یہ کائنات بنائی ہوتی تو لازما اس کے بنائے ہوئے قوانین کا اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین سے ٹکراؤ ہونا چاہئے تھا۔پس اس پہلو سے تمام بنی نوع انسان کو دعوتِ فکر دی گئی ہے کہ کائنات کے اسرار پر نظر ڈالیں اور پھر نظر ڈالیں تو ان کی نظر تھکی ماندی اور حسرت زدہ ہو کر ان کی طرف واپس لوٹے گی مگر وہ کائنات میں کہیں بھی کوئی خامی دریافت نہیں کر سکیں گے۔“ ( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفہ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الملک، صفحہ ۱۰۵۳) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تفاوت اضطراب کو بھی کہتے ہیں اور اختلاف کو بھی کہتے ہیں۔اضطراب یہ ہے کہ کوئی چیز کہیں کی کہیں ڈال دی جائے، ایسا نہیں ہے۔اور نہ ایسا اختلاف اور گڑ بڑ ہے کہ مثلاً آگ کی خاصیت پانی میں جا پڑے اور پانی کی خاصیت آگ میں جا پڑے۔تفاوت نقصان کے معنوں میں بھی آتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حق و حکمت میں کوئی نقصان نہیں ہوتا۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۱۵۹) يَقْبِضْنَ : فرمایا: أَو لَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوقَهُمْ طَفَتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُسكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَى عَم بصيره (الملك:۲۰) کیا انہوں نے پرندوں کو اپنے اوپر پر پھیلاتے اور سمیٹتے ہوئے نہیں دیکھا۔رحمان کے سوا کوئی نہیں جو انہیں روکے رکھے۔یقیناوہ ہر چیز پر گہری نظر رکھتا ہے۔(ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفہ المسیح الرابع) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: طیور کے آسمان میں اڑنے اور جو میں مسخر ہونے سے متعلق یہ آیت گہرے معانی رکھتی ہے۔پرندوں کی ساخت خصوصیت کے ساتھ ایسے اصولوں کے مطابق کی گئی ہے کہ وہ فضا میں اڑ سکیں اور یہ محض اتفاقی حادثہ نہیں۔بعض شکاری پرندوں کی رفتار ہوا میں دو سو میل فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے اور ان کی ساخت ایسی ہے کہ اس رفتار کا ان کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ ہوا اچونچ اور سر سے ٹکر ا کر چاروں طرف پھیل جاتی ہے اور اس تیز رفتاری کے ساتھ وہ اڑتے ہوئے پرندوں کا شکار بھی کر لیتے ہیں۔“ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفہ المسیح الرابع، سورۃ الملک، حاشیہ آیت ۲۰)