صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 274
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ ۲۷۴ -٦ كتاب التفسير / تبارك الذي ٦٧ سُورَةُ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ التَّفَاوُتُ الاخْتِلَافُ وَالتَّفَاوُتُ التَّفَاوُت کے معنی ہیں اختلاف اور التَّفَاوُت اور وَالتَّفَوُّتُ وَاحِدٌ۔تَمَيَّزُ (الملك: ٩) التَّفَوتُ ایک ہی ہیں۔تمیز کے معنی ہیں ٹکڑے تَقَطَّعُ۔مَنَاكِبِهَا (الملك: ١٦) جَوَانِبِهَا۔ٹکڑے ہو جاتی ہے۔منا کیتا کے معنی ہیں اس تدعُونَ ( الملك : ٢٨) وَتَدْعُونَ وَاحِدٌ کے کنارے۔تدعُونَ اور تَدْعُونَ کا ایک ہی مِثْلُ تَذَكَّرُونَ وَتَذْكُرُونَ وَ يَقْبِضْنَ مفہوم ہے جیسے تَذَكَّرُونَ اور تَذْكُرُونَ کا۔اور (الملك: ٢٠) يَضْرِبْنَ بِأَجْنِحَتِهِنَّ۔یقین کے معنی ہیں وہ اپنے پنکھ مارتے ہیں۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ صفت (الملك: ٢٠) اور مجاہد نے کہا: صفت کے معنی ہیں اپنے پنکھ بَسْطُ أَجْنِحَتِهِنَّ وَ نُفُور (الملك: ۲۲) پھیلائے ہوئے۔اور نُفُور کے معنی ہیں کفر۔الْكُفُورُ۔تشريح : سُورَةُ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِي الملك: حضرت خلیفة الحج الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سورہ شریفہ کو نہایت پُر شوکت الفاظ سے شروع کیا گیا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کی طاقت، سلطنت، عزت و عظمت و جبروت کا اظہار ہوتا ہے۔اس کے قبضہ قدرت میں سب حکومتیں ہیں۔یہ سورۃ مکی ہے۔ایسے وقت میں نازل ہوئی جب مسلمان تھوڑے اور کمزور تھے اور مشرکین کا زور تھا۔اس میں ایک پیشگوئی ہے کہ سلطنت اصل میں خدا کے ہاتھ میں ہے۔اور وہ اب کفار سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلطنت کا مالک بنائے گا۔دنیا داروں کی نگاہ میں یہ بات دور از قیاس ہے مگر خدائے تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔“ (حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحہ ۱۵۶) امام بخاری اس سورۃ کے جو الفاظ متن میں لائے ہیں ان کی مختصر تشریح ذیل میں ہے: التَّفَاوُت کے معنی ہیں اختلاف۔فرماتا ہے : الَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَواتِ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفُوتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِن تطور O (الملك: ۴) یعنی وہی جس نے سات آسمانوں کو طبقہ در طبقہ پیدا کیا تو رحمان کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔پس نظر دوڑا۔کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے۔(ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ) حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ساری کائنات پر غور کر کے دیکھ لو وہ ایک ہی خالق کی گواہی دے گی اور اس میں