صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 273
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۷۳ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم تشريح : عَلَى رَبُّةَ إِنْ طَلَقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَة أَزْوَاجًا: ہو سکتا ہے کہ اس کا رب اگر وہ تم کو طلاق دے دے تم سے بہتر بیویاں اس کو بدلہ میں دے۔ اللہ تعالٰی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے یہ اعلان کیا، اس اعلان کے باوجود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج میں سے کسی کو نہ طلاق دی اور نہ کسی اور عورت سے نکاح کیا۔ غرض آپ کے اہل میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب صفات جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے وہ انہی ازواج میں موجود تھیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے یہ اعلان فرمایا : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ امَتِّعَكُنَّ وَ أَسَرْحُكُنَ سَرَاحًا جَمِيلًا (الاحزاب: ۲۹) اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دنیوی سامان دے دیتا ہوں اور تم کو نیک طریق سے رخصت کر دیتا ہوں۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) اس اعلان کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ازواج سے ایک ماہ تک الگ رہے تا کہ وہ آزادی سے اس بارہ میں سوچ بچار کر سکیں اور اپنے گھر والوں سے مشورہ کر سکیں۔ ایک ماہ کے بعد جب آپ تشریف لائے اور باری باری ہر ایک کے پاس جا کر پوچھا کہ تم نے کیا مشورہ کیا ہے تو سب نے بیک زبان کہا کہ اس بارہ میں ہمارا اور ہمارے گھر والوں کا یہی فیصلہ ہے کہ ہمیں آپ سے بڑھ کر اور کچھ نہیں چاہیے۔ ہم آپ سے کسی طور پر علیحدہ ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔ اس طرح ان آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہلِ خانہ کے عظیم مقام اور حسن معاشرت کا عدیم المثال نمونہ پیش کیا گیا ہے۔