صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 272
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۷۲ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم یہ کیے ہیں کہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو گئے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ تمہارے دل پہلے ہی توبہ کی طرف مائل ہیں۔ لغت میں لکھا ہے کہ صفا کے معنی ہیں المیل یعنی مائل ہونا، جھکنا ۔ (المفردات فی غریب القرآن، كتاب الصاد، صغا) پس فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا کے معنی یہی ہو سکتے ہیں کہ تمہارے دل تو تو بہ کی طرف پہلے ہی مائل ہیں۔ نوٹ: حضرت ابن عباس کے پوچھنے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جن ازواج کا ذکر فرمایا ہے اس کا اس راز کی بات سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس میں ازواج مطہرات کے اس باہمی مقابلہ و مسابقت کا ذکر ہے جو ازواج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ و محبت حاصل کرنے کے لیے لگی رہتی۔ معلوم ہوتا ہے حضرت عائشہ و حضرت حفصہ مسابقت کی اس دوڑ میں نمایاں تھیں۔ بابه عَلى رَبُّهُ إِنْ طَلَقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِتٍ مُّؤْمِنَتِ قُنِتْتِ تيبت عبدت سبحت ثَبَتٍ وَ أَبْكَارًا (التحريم: ٦) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) ہو سکتا ہے کہ اگر وہ تم کو طلاق دے دے تو اُس کا رب تم سے بہتر بیویاں اس کو بدلہ میں دے جو فرمانبردار، مؤمن، دعائیں مانگنے والیاں، تو بہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، تسبیح اور تحمید میں مشغول رہنے والیاں، بیوہ اور باکرہ ہوں ٤٩١٦ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا ۴۹۱۶: عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم هُشَيْمٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ حضرت انس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَيْرَةِ عَلَيْهِ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ فَقُلْتُ لَهُنَّ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ علیہ وسلم کی ازواج نے بوجہ غیرت آپ کے متعلق أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ فَنَزَلَتْ اپکا کیا۔ میں نے ان سے کہا: ہو سکتا ہے کہ اگر وہ تمہیں طلاق دے دے تو اُس کا رب تم سے بہتر هَذِهِ الْآيَةُ۔ بیویاں بدلہ میں اس کو دے۔ تو پھر یہی آیت نازل ہوئی۔ أطرافه: ٤٠٢ ، ٤٤٨٣، ٤٧٩٠۔