صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 271
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۷۱ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم سُفْيَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ ہمیں بتایا۔یحی بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنِ يَقُولُ سَمِعْتُ میں نے عبید بن حسین سے سنا۔وہ کہتے تھے : میں ابْنَ عَبَّاسِ يَقُولُ أَرَدْتُّ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ نے حضرت ابن عباس سے سنا۔وہ کہتے تھے: عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَنَا عَلَى میں نے چاہا کہ حضرت عمرؓ سے اُن دو عورتوں کے رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ متعلق پوچھوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ فَمَكَفْتُ سَنَةً فَلَمْ أَجِدْ لَهُ مَوْضِعًا عليه وسلم کے برخلاف ایکا کیا تھا۔میں ایک سال ٹھہرا رہا مگر میں نے اس کا کوئی موقع نہ پایا۔یہاں حَتَّى خَرَجْتُ مَعَهُ حَاجًا فَلَمَّا كُنَّا بِظَهْرَانَ ذَهَبَ عُمَرُ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ ، تک کہ میں آپ کے ساتھ حج کے لیے نکلا۔جب ہم مر الظہران پہنچے، حضرت عمر حاجت کے لئے أَدْرِكْنِي بِالْوَضُوءِ فَأَدْرَكْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ گئےاور فرمایا: میرے لیے وضو کا پانی لاؤ۔میں نے فَجَعَلْتُ أَسْكُبُ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ پانی کی ایک چھا گل پائی اور اُن پر پانی ڈالا۔اور مَوْضِعًا فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ میں نے موقع دیکھا تو کہا: اے امیر المؤمنین! وہ الْمَرْأَتَانِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَنَا قَالَ ابْنُ دو عورتیں کون ہیں جنہوں نے (رسول اللہ صلی اللہ عَبَّاسِ فَمَا أَتْمَمْتُ كَلَامِي حَتَّى قَالَ علیہ وسلم کے بر خلاف) ایکا کیا تھا؟ حضرت ابن عباس نے کہا: میں نے ابھی اپنی بات پوری نہیں عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ۔کی تھی کہ انہوں نے فرمایا: عائشہ اور حفصہ أطرافه: ٨٩ ٢٤٦٨، ٤٩١٣، ٤٩٤، ۱۹۱، ۰۲۱۸، ٥٨٤۳، ٧٢٥٦، ٧٢٦٣۔تشريح : إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلوبكما: اگر تم اللہ کی طرف رجوع کر لو تو تمہارے دل تو مائل ہو ہی چکے ہیں۔اس آیت میں ان دو امہات المؤمنین کا نام نہیں بتایا گیا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک راز کی بات بیان فرمائی تھی اور انہوں نے آگے بیان کر دی۔اس آیت میں ایسے افراد کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے جو نیک اور خدا کی طرف جھکنے والے تھے مگر اپنی سادگی سے منافقوں کی سازش کا آلہ کار بن سکتے تھے۔مگر یہ بات بہت آغاز میں ہی پکڑی گئی اور خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں کا حال بھی بیان کر دیا کہ ان کے دلوں میں کوئی شر نہیں تھا۔اور اگر منافقین یہ سمجھتے تھے کہ ہم اپنی چالوں میں کامیاب ہو جائیں گے تو ان کو بتایا کہ خدا، اس کے فرشتے اور تمام سچے مومن تمہارا قلع قمع کرنے کے لئے موجود ہیں۔مفسرین نے پھر یہاں غلطی کی ہے اور معنے