صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 270
صحیح البخاری جلد ۱۲ ٢٧٠ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم نے کسی اور کے آگے ذکر کر دی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو الہام الہی کے ذریعے معلوم ہو گیا کہ اس بیوی نے اس راز کی بات کو آگے ذکر کر دیا ہے۔ شیعوں نے کہا ہے کہ وہ بات یہ تھی کہ میرے بعد حضرت علی خلیفہ ہوں گے اور سنی کہتے ہیں کہ وہ بات یہ تھی کہ میرے بعد ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما خلیفہ ہوں گے۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے اس بات کو مقید نہیں کیا اور بیان نہیں فرمایا کہ وہ کیا بات تھی۔ تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم کہیں کہ وہ یہ بات تھی یا وہ بات تھی۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۱۴۹) باب ٤ : إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ( التحريم : ٥) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) اگر تم اللہ کی طرف رجوع کر لو تو تمہارے دل تو مائل ہو ہی چکے ہیں صَغَوْتُ وَأَصْغَيْتُ مِلْتُ، لِتَصْغَى صَغَوْتُ اور أَصْغَیت کے معنی ہیں میں مائل ہوا، (الأنعام: ١١٤) لِتَمِيلَ۔ وَإِنْ تَظَاهَرًا جھکا - لِتَصْغَى (جو سورہ انعام میں ہے) کے معنی عَلَيْهِ فَإِنَّ اللهَ هُوَ مَوْلهُ وَ جِبْرِيلُ ہیں تا کہ جھک جائیں۔ وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَئِكَةُ بَعْدَ اللهَ هُوَ مَوْلَهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ ذلِكَ ظَهِيرٌ ( (التحريم : ٥) عَوْنَ، وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِير " ( اس آیت وق تظهرُونَ (البقرة : ٨٦) تَعَاوَنُونَ ۔ وَقَالَ میں ظھیر کے معنی ہیں) مدد گار ۔ تَظْهَرُونَ کے مُجَاهِدٌ: قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ معنی ہیں تم مدد کرتے ہو۔ اور مجاہد نے کہا: قوم انْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ سے مراد ہے کہ اپنی جانوں (التحريم : ٧) أَوْصُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَأَذِبُوهُمْ۔ کی نصیحت کرو اور ان کی تربیت کرو۔ کو بھی اور اپنے اہل کو بھی اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے ٤٩١٥: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۴۹۱۵: حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : اور اگر تم دونوں اُس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو یقینا اللہ ہی اس کا مولی ہے اور جبرائیل بھی اور مومنوں میں سے ہر صالح شخص بھی اور مزید برآں فرشتے بھی اس کے پشت پناہ ہیں۔“