صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 269
صحیح البخاری جلد ۱۲ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۲۶۹ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم سے روایت بیان کی (جو پہلے گزر چکی ہے۔) ٤٩١٤: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ :۴۹۱۴: علی بن عبد اللہ مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ یحی بن عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ سعيد (انصاری) نے ہمیں خبر دی۔کہا: میں نے عبید اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ أَرَدْتُ أَنْ بن حسین سے سنا۔عبید کہتے تھے : میں نے حضرت أَسْأَلَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔وہ کہتے تھے: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ اللَّتَانِ میں نے چاہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھوں اور میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ تَظَاهَرَنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ رَضِيَ امیر المؤمنین وہ دو عورتیں کون ہیں جنہوں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَتْمَمْتُ كَلَامِي حَتَّى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بر خلاف ایکا کیا تھا؟ تو میں نے ابھی اپنی بات پوری نہیں کی تھی کہ قَالَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ۔انہوں نے کہا: عائشہ اور حفصہ أطرافه : ۸۹ ۲٤٦٨ ، ٤۹۱۳، ۹۱٥، ۵۱۹۱، ۰۲۱۸، ٥٨٤۳، ٤٧٢٥٦ ٧٢٦٣۔تشریح۔وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجه حدیقا: یعنی جب نبی نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک سے ایک مخفی بات کہی۔یہ کیا راز کی بات تھی قرآن کریم میں اس کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا۔گذشتہ ابواب میں شہد وغیرہ جن واقعات کا ذکر ہے ، اُن کا اس راز کی بات سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں بلکہ یہ ایک ایسے راز کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے جو اسلامی سوسائٹی کے انتظام وانصرام سے تعلق رکھتا تھا اور اس کے افشاء و اظہار سے منافقین فائدہ اُٹھا سکتے تھے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے افشاء سے پہلے ہی اپنے نبی کو مطلع فرما کر اس کا سد باب فرما دیا۔قرآنِ کریم نے ان آیات میں دشمنان اسلام کی مخفی کارروائیوں کو طشت از بام کر کے ان کے سارے منصوبے کا تارو پودا کھیڑ کر رکھ دیا اور ثابت کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا علیم بھی ہے اور خبیر بھی یعنی منافقین کی ہر چال کو وہ جانتا ہے اور حسب موقع اپنے نبی کو اس کی خبر دیتا ہے۔اس لیے ایسے بندے کا مقابلہ کرنا جو علیم و خبیر کا بندہ ہے اسفل السافلین کے بس کا روگ نہیں۔نیز آپ کے قریبی ساتھیوں کو بھی ان کے مقام اور نازک ذمہ داریوں کی طرف نہایت حکمت سے توجہ دلا دی کہ انہیں اس مقدس رسول کا دست و بازو بن کر اسلام کی مہمات عظیمہ میں اس کا سلطان نصیر بنا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: "آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی بات اپنی کسی بیوی کو کہی تھی۔اس