صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 268 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 268

یح البخاری جلد ۱۳ ۲۶۸ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم نشرح۔قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةً ایمانکم اللہ نے تمہارے لئے یہ فرض قرار دیا ہے کہ تم اپنی ایسی قسموں کو کھولو۔یہاں قسموں کو کھولنے سے یہ مراد نہیں کہ جو سنجیدگی سے کسی سے وعدہ کی خاطر جائز قسم کھائی جائے اس کو بھی تم بے شک کھول دیا کرو۔صرف یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ حلال و حرام میں سے اگر تم کسی کو تبدیل کرنے کی قسم کھا بیٹھو تو اسے توڑ دیا کرو مگر اس کا بھی فدیہ دینا ہو گا۔قرآنِ کریم میں ان قسموں کے کفارے کو یوں بیان کیا گیا ہے۔فرماتا ہے: لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّعُونِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَد ثُمَّ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتْهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسْكِينَ مِنْ اَوسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَارَةً أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ، وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ (المائدة: ٩٠) یعنی تمہاری قسموں میں سے لغو ( قسموں) پر اللہ تمہیں سزا نہیں دے گا بلکہ تمہارے پکی قسمیں کھانے ( اور پھر توڑ دینے) پر تمہیں سزا دے گا۔پس اس (کے توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو متوسط ( درجہ کا) کھانا کھلانا ہے (ایسا کھانا) جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کا لباس یا ایک (غلام کی گردن کا آزاد کرنا۔پھر جسے (یہ بھی) میسر نہ ہو تو (اس پر ) تین دن کے روزے (واجب) ہیں۔جب تم قسمیں کھاؤ اور پھر انہیں توڑ دو) تو یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔اور تم اپنی قسموں کی حفاظت (کیا) کرو۔(ترجمہ تفسیر صغیر) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک یہ بھی طریق تھا کہ اگر آپ کسی بات پر قسم کھا لیتے پھر اس کے بعد اس سے بہتر صورت سامنے آجاتی تو آپ اس کو اختیار کر لیتے اور قسم کا کفارہ ادا کر دیتے۔(صحیح البخاری، کتاب كفارات الأيمان، باب الاستثناء في الأيمان، روایت نمبر ۶۷۱۸) باب ٣ واذ اسر النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَاتُ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَ أَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّاهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنْبَاكَ هَذَا قَالَ نَبَّانِي الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ (التحريم : ٤ ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) اور یاد کر وجب نبی نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک سے ایک منفی بات کہی۔پھر جب اس نے وہ بات کسی کو بتادی اور اللہ نے اس (کمزوری) کی خبر اس (یعنی نبی) کو دے دی تو اُس نے (بات کا کچھ حصہ بیوی کو بتادیا اور کچھ حصہ سے پردہ پوشی کی۔پھر جب اس نے امر واقعہ کی خبر اس (بیوی) کو دی تو اس نے کہا کہ آپ کو یہ خبر کس نے دی ہے اس پر اس (یعنی نبی) نے کہا کہ مجھے بڑے علم والے ( اور ) واقف کار خدا نے خبر دی ہے۔فِيهِ عَائِشَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ اس کے متعلق حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم