صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 267
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۶۷ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم الدَّرَجَةِ فَقُلْتُ لَهُ قُلْ هَذَا عُمَرُ بْنُ رسولاللہ لی لی ہم اپنی بیویوں سے الگ ہو گئے ہیں۔الْخَطَّابِ فَأَذِنَ لِي قَالَ عُمَرُ میں نے سن کر) کہا: حفصہ اور عائشہ کی ناک خاک فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ آلود ہوئی۔میں نے اپنے کپڑے پہنے اور گھر سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمَّا روانہ ہو گیا۔جب میں آیا تو کیا ہے کہ رسول اللہ سلی می روم اپنے بالا خانہ میں ہیں۔کھجور کی ایک سیڑھی بَلَغْتُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ تَبَسَّمَ کے ذریعہ سے چڑھ کر آپ اس میں جاتے تھے اور رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ رَسول اللهلال نام کا ایک سیاہ فام غلام سیڑھی کے سر لَعَلَى حَصِيرٍ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْءٌ پر تھا۔میں نے اس سے کہا: کہو! یہ عمر بن خطاب وَتَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِّنْ أَدَمِ حَشْوُهَا آیا ہے۔آپ نے مجھے اجازت دی۔حضرت عمر لِيفٌ وَإِنَّ عِنْدَ رِجْلَيْهِ قَرَطًا مَّصْبُورًا کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم سے یہ سارا وَعِنْدَ رَأْسِهِ أَهَبٌ مُعَلَّقَةٌ فَرَأَيْتُ أَثَرَ واقعہ بیان کیا۔جب میں حضرت اُم سلمہ کی بات الْحَصِيرِ فِي جَنْبِهِ فَبَكَيْتُ فَقَالَ پر پہنچا تو رسول اللہ صل میں یکم مسکرائے اور اس وقت مَا يُبْكِيكَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ آپ ایک بوریا پر تھے ، آپ کے اور اس بوریا کے درمیان کوئی چیز نہ تھی اور آپ کے سر کے نیچے لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ۔كِسْرَى وَقَيْصَرَ فِيمَا هُمَا فِيهِ وَأَنْتَ چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ ہوئی تھی اور آپ کے پاؤں کے پاس کیکر کے پتوں کا ڈھیر لگا تھا اور آپ کے سر کے قریب کچے چمڑے لٹک رہے تھے اور میں نے آپ کے پہلو میں اس بوریا کا نشان بھی دیکھا اور (یہ دیکھ کر ) میں رو پڑا۔آپ نے پوچھا: تمہیں کیا بات ڈلا رہی ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کسریٰ اور قیصر آسائش میں ہوں جس میں کہ وہ ہیں اور آپ تو رسول اللہ ہیں۔آپ نے فرمایا: کیا تم اس سے خوش نہیں کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت؟ أطرافه: ۸۹، ٢٤٦٨، ٤٩١٤، ٤٩١٥ ،۵۱۹۱، ۰۲۱۸، ٥٨٤۳، ٧٢٥٦، ٧٢٦٣ -