صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 6 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 6

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / الزمر تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ۔(الزمر: ٥٤) معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی جان کو جسے اللہ نے حفاظت بخشی ہو قتل کرتے ہیں سوائے (شرعی) حق کے۔اور نہ زنا کرتے ہیں۔اور (یہ آیت) نازل ہوئی: تو (اُن کو ہماری طرف سے) کہہ دے اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جان پر (گناہ کر کے ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ریح: يعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا : کہا جاتا ہے کہ مایوسی ایک گناہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مایوسی مزید گناہوں کی دلدل میں دھکیلنے کا باعث بنتی ہے۔دنیا میں اس کے بہت سے شواہد ہیں۔روایات میں بنی اسرائیل کے ایک ایسے شخص کا واقعہ درج ہے جس نے نناوے افراد کو قتل کیا اور بخشش سے ناامید ہو کر اُس نے گناہوں میں ایک قدم آگے بڑھایا اور ایک اور شخص کو قتل کر کے اس دلدل میں مزید نیچے جارہا تھا کہ رحمت الہی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک ایسے نجات دہندہ کا بتایا گیا جس سے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہونے کی اسے اُمید ملی۔مایوسی کی یہ دلدل افراد تک ہی محدود نہیں بلکہ بڑی بڑی قومیں اس کا شکار ہو کر گناہوں کی اس دلدل میں ڈوبتی جارہی ہیں۔اس کی سب سے بڑی مثال عیسائیت کا کفارہ کا وہ تصویر ہے جس کے مطابق آدم اور حوا سے سرزد ہونے والا گناہ نسلاً بعد نسل بنی نوع انسان میں چلا آرہا ہے اور ابلیس کے اس چنگل سے بنی نوع انسان کبھی چھنکار انہیں پاسکتی۔اس کا جو علاج انہوں نے تجویز کیا یعنی کفارہ اس کا نتیجہ بھی صفر ہے کیونکہ گناہ کی وہ تینوں علامتیں جو بیان کی گئیں آج بھی اُسی طرح موجود ہیں۔آج بھی مرد کو اپنے خون پسینہ کی کمائی سے ہی کھانے کو نصیب ہوتا ہے۔آج بھی عورت دردزہ کی تکلیف سے بچہ جنتی ہے۔اور سانپ جو شیطان کی علامت قرار پایا وہ آج بھی مٹی کھاتا اور اس پر اسی طرح رینگتا رہتا ہے۔اس مایوس دنیا کو ایک ہی نجات دہندہ ملا اور وہ ہمارے سید و مولا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن سے خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کر ایا: قل یعِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا ( الزمر : ۵۴)۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وو یہ آیت اس لئے نازل ہوئی ہے کہ تا خدا تعالیٰ بے انتہا رحمتوں کی بشارت دیوے اور جو لوگ کثرت گناہوں سے دل شکستہ ہیں ان کو تسکین بخشے۔سو اللہ جل شانہ نے اس آیت میں چاہا کہ اپنی رحمتوں کا ایک نمونہ پیش کرے اور بندہ کو دکھلاوے کہ میں کہاں تک اپنے وفادار بندوں کو انعامات خاصہ سے مشرف کرتا ہوں۔سو اس نے قل يَا عِبَادِی کے لفظ سے یہ ظاہر کیا کہ دیکھو یہ میرا پیارا رسول دیکھو یہ برگزیدہ بندہ کہ (بخاری، کتاب أحاديث الأنبياء، باب حدیث الغار، روایت نمبر ۳۴۷۰)