صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 264
حیح البخاری جلد ۱۲ ۲۶۴ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم باب ۲ : تَبْتَغِى مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ (التحريم : ٢، ٣) تم اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہو اللہ نے تمہارے لئے یہ فرض قرار دیا ہے کہ تم اپنی ایسی قسموں کو کھولو ( جن سے فتنہ پیدا ہو) ٤٩١٣: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۴۹۱۳: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ که سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بیچی يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ أَنَّهُ سَمِعَ ( بن سعيد انصاری) سے، بچی نے عبید بن حنین ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس أَنَّهُ قَالَ مَكَفْتُ سَنَةً أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے سنا۔انہوں نے کہا: میں ایک سال ٹھہرا رہا۔یہ چاہتا تھا کہ حضرت عمر عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ آيَةٍ فَمَا بن خطاب سے ایک آیت کے متعلق پوچھوں مگر أَسْتَطِيعُ أَنْ أَسْأَلَهُ هَيْبَةٌ لَّهُ حَتَّى میں ان کی ہیبت کی وجہ سے ان سے پوچھ نہ سکا۔خَرَجَ حَاجًا فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَلَمَّا آخر وہ حج کے لئے نکلے اور میں بھی اُن کے ساتھ رَجَعْتُ وَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ لكلا۔جب میں لوٹا اور ہم ابھی راستے کے کسی حصے إِلَى الْأَرَاكِ لِحَاجَةٍ لَّهُ قَالَ فَوَقَفْتُ میں تھے ، وہ حاجت کے لئے پیلو کے درخت کی لَهُ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ سِرْتُ مَعَهُ فَقُلْتُ لَهُ طرف راستہ سے ہٹ کر گئے۔حضرت ابن عباس يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا کہتے تھے: میں کھڑا آپ کا انتظار کرتا رہا۔جب عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فارغ ہوئے تو پھر میں آپ کے ساتھ چل پڑا۔میں أَزْوَاجِهِ فَقَالَ تِلْكَ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ نے کہا: امیرالمؤمنین! آنحضور صلی علیکم کی ازواج میں سے وہ دو عورتیں کون ہیں جنہوں نے نبی صلی الی یوم قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأُرِيدُ أَنْ کے برخلاف آپس میں ایکا کیا تھا۔انہوں نے کہا: أَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا مُنْذُ سَنَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ وہ حفصہ اور عائشہ تھیں۔(حضرت ابن عباس) هَيْبَةً لَّكَ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ مَا ظَنَنْتَ کہتے تھے ، میں نے کہا: اللہ کی قسم میں ایک سال أَنَّ عِنْدِي مِنْ عِلْمٍ فَاسْأَلْنِي فَإِنْ سے چاہتا تھا کہ آپ سے اس کے متعلق پوچھوں مگر كَانَ لِي عِلْمٌ خَبَّرْتُكَ بِهِ قَالَ ثُمَّ قَالَ آپ کی ہیبت کی وجہ سے پوچھ نہ سکتا تھا۔انہوں ย