صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 265 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 265

حیح البخاری جلد ۱۲ ۲۶۵ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم عُمَرُ وَاللَّهِ إِنْ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَا نے کہا: ایسانہ کر ، جو علم کی بات تم سمجھو کہ میرے نَعُدُّ لِلنِّسَاءِ أَمْرًا حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ پاس ہے تو مجھ سے پوچھ لو۔اگر مجھے علم ہوا تو میں فِيهِنَّ مَا أَنْزَلَ وَقَسَمَ لَهُنَّ مَا قَسَمَ تم کو اس کے متعلق بتادوں گا۔(حضرت ابن قَالَ فَبَيْنَا أَنَا فِي أَمْرٍ أَتَأَمَّرُهُ إِذْ عباس) کہتے تھے : پھر اس کے بعد حضرت عمرؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! ہم تو جاہلیت میں عورتوں کو کسی قَالَتْ امْرَأَتِي لَوْ صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا شمار میں بھی نہ سمجھتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے ان قَالَ فَقُلْتُ لَهَا مَا لَكِ وَلِمَا هَا هُنَا کے متعلق وہ کچھ احکام نازل کئے جو کئے اور ان کو فِيمَا تَكَلُّفُكِ فِي أَمْرِ أُرِيدُهُ فَقَالَتْ وہ حصہ دلا یا جو دلایا۔(حضرت عمر) فرماتے تھے: عَجَبًا لَّكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا تُرِيدُ ایک بار میں ایک معاملہ میں مشورہ کر رہا تھا کہ أَنْ تُرَاجَعَ أَنْتَ وَإِنَّ ابْنَتَكَ لَتُرَاجِعُ اتنے میں میری بیوی نے کہا: اگر آپ ایسا ایسا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى کریں۔فرماتے تھے: میں نے اس سے کہا: تجھے اس مشورہ سے کیا جو یہاں ہو رہا ہے۔تم ایسے معاملہ فَأَخَذَ يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ فَقَامَ عُمَرُ میں خواہ مخواہ کیوں دخل دیتی ہو جس کو میں کرنا رِدَاءَهُ مَكَانَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ چاہتا ہوں۔وہ (یہ سن کر) بولی: ابن خطاب ! آپ فَقَالَ لَهَا يَا بُنَيَّةُ إِنَّكِ لَتُرَاجِعِينَ بھی عجیب آدمی ہیں۔آپ نہیں چاہتے کہ کوئی رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى آپ سے دوسری بات کرے اور آپ کی بیٹی تو يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ فَقَالَتْ حَفْصَةُ رسول اللہ صلی الم کو ایسے ڈوبد و جواب دیتی ہے کہ وَاللَّهِ إِنَّا لَنُرَاجِعُهُ فَقُلْتُ تَعْلَمِينَ أَنِّي آنحضور سارا دن ناراض رہتے ہیں۔(یہ سن کر) أُحَدِّرُكِ عُقُوبَةَ اللَّهِ وَغَضَبَ رَسُولِهِ حضرت عمرؓ اسی وقت کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر لی اور حضرت حفصہ کے پاس گئے اور ان سے کہنے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بُنَيَّةُ لَا لگے : بیٹی اتم رسول اللہ صلی کم سے دو بدو باتیں کرتی يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ الَّتِي أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا ہو کہ آپ سارا دن ناراض رہتے ہیں۔حضرت حفصہ حُبُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے (یہ سن کر کہا: اللہ کی قسم ! ہم تو آپ کو جواب وَسَلَّمَ إِيَّاهَا يُرِيدُ عَائِشَةَ قَالَ ثُمَّ دیتی ہیں۔میں نے کہا: بیٹی سمجھ لو کہ میں تمہیں اللہ خَرَجْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ کی سزا اور اس کے رسول صلی ال یکم کی ناراضگی سے