صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 263
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۶۳ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم مسلمہ واقعات میں کوئی بات قابل اعتراض ہوتی تو اسے پیش کرتے مگر اس میدان میں چونکہ ان کے ہاتھ کبھی کچھ نہیں آیا اس لیے ہمیشہ وہ انبیاء کے خلاف استہزاء کے لیے کمزور ، بے سند ، حقائق کے برعکس اور مسلمہ اصولوں کے منافی باتوں کو لے کر انبیاء پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن کریم اس افسوسناک صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بندوں فرماتا ہے : حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا مَا يَأْتِيهِم مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (يس: ۳۱) یعنی وائے حسرت پر! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر وہ اس سے ٹھٹھا کرنے لگتے ہیں۔ نہیں۔ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع) مذکورہ بالا واقعہ بھی اسی قبیل کا شاخسانہ ہے۔ مستشرقین کے اس طرز عمل پر حیرت ہے کہ کس طرح وہ تاریخی حقائق کو یک سر نظر انداز کر کے اپنی مرضی کی چیزوں کو اپنی خواہش کے مطابق ڈھال کر قرآن کریم کی تفسیر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ (۱) جہاں تک مستشرقین کے اس مزعومہ واقعہ کا رواقعہ کا تعلق ہے یہ نہ قرآن کریم میں میں ہے نہ احادیث صحیحہ میں۔ بلکہ اس کا ذکر شروحات اور تفاسیر میں ملتا ہے۔ اس لیے اصولِ روایت کے اعتبار سے قرآن کریم اور مستند کتب احادیث کے مقابل مفسرین اور شارحین کے اقوال کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ (۲) اس واقعہ کو تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کا نزول 9ھ میں ہوا۔ اس سے دو سال قبل یعنی ےھ میں حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں داخل ہو چکی تھیں اور ان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم پیدا ہو چکے تھے۔ یہ بات تاریخ کا ادنی طالب علم بھی جانتا ہے کہ حضرت ماریہ قبطیہ کسی مفتوح قوم کے غلاموں میں سے نہیں تھیں بلکہ مصر کے بادشاہ کی طرف سے شاہی خاندان کی یہ شہزادی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئی تھیں۔ اور جو حقوق دیگر ازواج کے تھے وہ تمام حقوق ان کو حاصل تھے اور حضرت ماریہ کا مقام ہر لحاظ سے ایک آزاد زوجہ کا تھانہ کہ لونڈی کا۔ پس مستشرقین کا یہ من گھڑت قصہ حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ کی طرف منسوب کرنا مستشرقین کے اندر کے گند کو ظاہر کرتا ہے۔ عربی زبان کا مشہور محاورہ ہے: الإناء يترشح بما فيه یعنی بر تن کے اندر جو ہو وہی باہر آتا ہے۔ پس یہ قصہ ولیم میور جیسے مستشرقین کے اندر کے گند کو تو ظاہر کرتا ہی ہے اس کے ساتھ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے خلاف منافقین کی سازشوں کو بھی طشت از بام کرتا ہے۔ نیز مستشرقین کا منافقین کی ان سازشوں کو اپنی زبان دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بیان کرنا ان کے تعصب کا آئینہ دار ہے جس نے تاریخ کے صفحات کو اپنے تعفن سے بدبودار کیا ہے۔ وہ راز کی بات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زوجہ سے بیان فرمائی اس کا اس واقعہ سے قطعاً کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ وہ راز راز ہی رہا۔ نہ اللہ تعالیٰ نے اس راز سے پردہ اُٹھایا نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اس لیے مفسرین، مستشرقین کی یہ اپنی قیاس آرائیاں ہیں جن کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں۔ اس کی تفصیل باب ۳ کی تشریح میں دیکھی جا سکتی ہے۔