صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 262 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 262

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۶۲ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم course, Mahomet was passing in her house۔Returning unexpectedly, she surprised the Prophet in her own private room with Mary۔She was indignant at the wrong۔The affront was the more intolerable from the servile position of her rival۔She reproached her lord bitterly, and threatened to make the occurrence known to all his wives۔Afraid of the exposure, and anxious to appease his offended wife, Mahomet begged of her to keep the matter quiet, and promised to forego the society of Mary altogether۔Haphsa, however, did not care to keep the secret to herself۔She told all to Ayesha, who equally boiled with indignation۔The scandal spread apace over the harem, and Mahomet soon found himself received by his wives with coldness۔" (The Life of Mahomet, Vol۔4, Page 159 to 161) محمد (صلی ) کی بیویوں کو ماریہ سے حسد تھا جن کی ابراہیم کی ماں بننے کی وجہ سے لونڈی کی حیثیت ختم ہو چکی تھی اور (آنحضرت ملا م کا) ان سے خاص سلوک تھا۔ایک دفعہ یوں ہوا کہ حفصہ اپنے والد (حضرت عمر سے ملنے گئیں۔اسی دن آپ حفصہ کے گھر آئے ہوئے تھے۔حفصہ غیر متوقع طور پر جلدی واپس آگئیں۔گھر پہنچیں تو محمد (صلی علیم) کو اپنے کمرے میں ماریہ کے ساتھ موجود پایا۔اس حرکت پر وہ غضبناک ہو گئیں۔ان کو اپنی توہین کا احساس اس لیے بھی زیادہ ہوا کہ ان کی سوکن (حضرت ماریہ) کی حیثیت ان سے کم تر تھی۔اس پر حفصہ نے آپ کو سخت ست کہا اور یہ واقعہ اپنی دیگر ساتھیوں ( ازواج النبی صلی اللہ ﷺ سے بیان کرنے کی دھمکی دی۔محمد (صل الل) اس کی تشہیر کے خوف سے حفصہ سے ملتیجی ہوئے کہ وہ اسے مخفی رکھیں اور وعدہ کیا کہ آئندہ وہ ماریہ کے ساتھ تعلق نہیں رکھیں گے۔حفصہ نے اس بات کی پروانہ کی اور وہ بات عائشہ کو بتادی جس پر وہ بھی غصہ سے آگ بگولہ ہو گئیں۔نتیجہ یہ بات حرم نبوی میں مشہور ہو گئی اور محمد ( صلی علیم) کو اپنی بیویوں کی طرف سے انتہائی سرد مہری کا سامنا ہوا۔“ مخالفین انبیاء کے متعلق ہمیشہ یہ حسرت ہی رہی ہے کہ کاش وہ مستند اور مسلمہ واقعات کو سامنے رکھتے اور اگر ان