صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 261
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۶۱ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ (التحریم : ۲) یعنی اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہو۔دراصل آپ چاہتے تھے کہ آپ کے گھر کا ماحول ایسا ہو کہ تمام بیویاں خوش رہیں اور کسی قسم کی باہم مقابلہ بازی نہ ہو۔آپ ازواج میں عدل کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے مگر کسی زوجہ کی خوبیاں اگر اسے دیگر ازواج سے زیادہ محبوب بنا تیں اور آپ کے التفات کا زیادہ حصہ دلانے کا موجب بنتیں تو محبت کے ان جذبات کی وجہ سے آپ خدا کے حضور دعا گو رہتے کہ اے اللہ کسی سے زیادہ محبت ہو نا میرے بس کی بات نہیں اس لیے تو اس سے صرف نظر فرمانا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی ان دعاؤں کو قبول فرمایا اور اس آیت کے آخر پر غَفُورٌ رَّحِیم کے الفاظ سے آپ کو تسلی دی۔دوسروں کی خاطر اپنے جذبات اور خواہشات اور حقیقی ضرورتوں کی قربانی اگر چہ ایک عمدہ نیکی ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اس سے بہت بالا اور ارفع ہے کیونکہ آپ کا ہر قول و فعل اور ہر حرکت و سکون ایک دائمی نمونہ اور ماڈل ہے۔اس لیے آپ کا اپنی ازواج کے جذبات کا خیال رکھنا یا اعلیٰ ظرفی کے طور پر ازواج کی خاطر کسی حلال کو حرام کرنا آپ کے لیے اس لیے روا نہیں رکھا گیا کہ آپ کی ذات ایک کامل اسوہ اور نمونہ ہے جیسا کہ روایت نمبر ۴۹۱۱ کے آخر میں امام بخاری نے حضرت ابنِ عباس کے حوالے سے بیان کیا ہے: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب (۲۲) یعنی حضرت ابن عباس نے یہ بھی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔پس اگر آپ قربانی کرتے ہوئے اور دوسروں کی خاطر اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر کسی حلال چیز کو حرام کر دیں گے تو تمام مؤمن اس کے پابند ہو جائیں گے اور یہ امر ان کے لیے تکلیف کا باعث ہو گا۔مستشرقین کا بودہ اور بے ہودہ اعتراض: لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِى مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ (التحريم : ٢) یعنی جو اللہ نے تمہارے لئے جائز قرار دیا ہے وہ تم کیوں حرام قرار دیتے ہو۔اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہو۔اس آیت کے حوالے سے ایک بات یہ بیان کی گئی ہے کہ آپ نے حضرت ماریہ قبطیہ کے پاس نہ جانے کی قسم کھالی۔مستشرقین نے اس بات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنی شر انگیزی اور آپ کی مقدس ذات پر کیچڑ اُچھالنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے اور اپنے اندر کے گند خوب ظاہر کیے ہیں۔چنانچہ ولیم میور نے حضرت ماریہ کو ایک Slave Girl لکھا ہے۔(158) The Life of Mahomet, Vol۔4, Footnote of page) نیز وہ لکھتا ہے: "The wives of Mahomet were envious of Mary, who as the mother of Ibrahim was advanced beyond the position of a slave۔۔۔۔۔It once happened that Haphsa paid a visit to her father on the day which, in due