صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 260
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۶۰ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم کر ان سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں اُن کے لیے (صرف) چار مہینے تک انتظار کرنا (جائز) ہے۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) ایلاء کی صورت میں خاوند زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک اپنی بیوی سے الگ رہ سکتا ہے اس دوران اسے رجوع کرنا ہو گا یا طلاق دینی ہوگی۔ اگر مرد نہ طلاق دے نہ رجوع کرے تو عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خلع لے کر الگ ہو جائے کیونکہ اسلام عورت کو حالمة (درمیان میں لٹکتی ہوئی چیز کی مانند) رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس قسم کو ختم کرنے پر مرد کو کفارہ دینا ہو گا۔ قرآن کریم نے قسم کا کفارہ یہ بیان کیا ہے : لَا يُؤَاخِنُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَدْ تُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسْكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَثَةِ أَيَّامٍ ( المائدة : ٩٠) یعنی اللہ تمہیں تمہاری لغو قسموں پر نہیں پکڑے گا لیکن وہ تمہیں اُن پر پکڑے گا جو تم نے قسمیں کھا کر وعدے کئے ہیں۔ پس اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو اوسطا تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو ، یا انہیں کپڑے پہنانا ہے یا ایک گردن آزاد کرنا ہے۔ اور جو اس کی توفیق نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنے ہوں گے۔) (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع) (۲) اس آیت کے حوالے سے سنن ترمذی میں ایک روایت حضرت عائشہ سے بیان کی گئی ہے: آئی رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ وَحَرَّمَ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے ایلاء کیا اور ان کو اپنے او پر حرام کر لیا۔ حضرت ابن عباس کا یہ قول کہ فِي الْحَرَامِ يُكَفِّر یعنی اپنی بیوی سے یہ کہنا کہ تو مجھ پر حرام ہے ، اس کے لئے وہ کفارہ ادا کرے، یہ عام حکم ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب نہیں ہیں۔ امام بخاری کے اس استدلال کو قرآن کریم کے حسن ترتیب سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ نیز تفسیر قرآن کا اصول ہے : يُغَيِّرُ بَعْضُهُ بَعْضًا یعنی اس کا ایک حصہ دوسرے کی تفسیر کرتا ہے۔ اس کے مطابق سورۃ تحریم کی آیت نمبر دو کی تفسیر آیت تین سے کی گئی ہے اور یوں تصری تعریف آیات سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ یہاں آنحضرت صلی علی ایم کو کسی حلال چیز کے حرام کرنے سے نہیں روکا گیا بلکہ آپ کے ذریعہ موسمنوں کو یہ حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا: قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ (التحریم:۳) یعنی اللہ نے تم پر اپنی قسمیں کھولنا لازم کر دیا ہے۔ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع) پس الرسل ان آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب نہیں بلکہ آپ کے ذریعہ مؤمنوں کو خطاب کیا گیا ہے۔ (۳) اس آیت کے حوالے سے باب ہذا کی روایت (۴۹۱۲) میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے حضرت زینب بنت جحش کے گھر شہد پیا۔ بعض ازواج نے اسے پسند نہ کیا تو آپ نے آئندہ شہد نہ پینے کی قسم کھائی۔ اس روایت کو قبول کر بھی لیا جائے تو بھی یہ امر محل اعتراض نہیں۔ بلکہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک فطرت اور حسن معاشرت کا نہایت لطیف پہلو سامنے آتا ہے کہ آپ اپنی ازواج کے جذبات کا کس قدر خیال رکھتے تھے اور ان کی دلجوئی اور دل داری کے لیے اپنی جائز ضرورتوں اور خواہشات کی قربانی سے دریغ نہ کرتے۔ اُن کو تکلیف سے بچانے کے لیے خود تکلیف اُٹھا لیتے۔ ا ( سنن الترمذى، أَبْوَابُ الطَّلَاقِ وَاللعَانِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِيلاء)