صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 259
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۵۹ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم وَحَفْصَةُ عَنْ أَيَّتُنَا دَخَلَ عَلَيْهَا پاس ٹھہرے رہتے۔ میں نے اور حفصہ نے اتفاق فَلْتَقُلْ لَهُ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ إِنِّي أَجِدُ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آپ آئیں تو وہ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ قَالَ لَا وَلَكِنِّي آپ سے یوں کہے: آپ نے ہینگ کھائی ہے۔ كُنتُ أَشْرَبُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ ابْنَةِ مجھے آپ سے ہینگ کی بُو آتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: جَحْشٍ فَلَنْ أَعُودَ لَهُ وَقَدْ حَلَفْتُ لَا نہیں، بلکہ ، بلکہ میں زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا کرتا تھا اور اب پھر کبھی نہیں پیوں گا اور میں نے تُخْبِرِي بِذَلِكَ أَحَدًا۔ قسم کھائی ہے۔ یہ کسی کو بتانا نہیں۔ أطرافه: ٥٢١٦ ، ٥٢٦٧، ٥٢٦٨ ، ٥٤٣١ ، ٥٥٩٩، ٥٦١٤ ، ٥٦٨٢، ٦٦٩١، ٦٩٧٢۔ تشريح : سُورَةُ التَّحْرِيم: حضرت خلیفة السح الرابع رحمہ للہ فرماتے ہیں: ” اس سورت میں توبۃ النصوح کا ذکر فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کو یہ تاکید فرمائی گئی ہے کہ اگر وہ سچے دل سے توبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ ان کے تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو معاف فرمادے۔۔۔۔ اس سورۃ کے آخر میں ان دو بد قسمت عورتوں کی مثال بیان کی گئی ہے جو انبیاء کے اہل میں بظاہر داخل تھیں مگر عملاً وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں خیانت سے کام لیتی رہیں۔ پھر ان دونوں کے برعکس دو انتہائی پاکدامن عورتوں کا بھی ذکر ہے۔“ " ( ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورۃ التحریم صفحه ۱۰۴۷) يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ : اے نبی ! تو کیوں حرام کر رہا ہے جسے اللہ نے تیرے لیے حلال قرار دیا ہے۔ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع) لم تُحرم میں آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناراضگی یا زجر کا اشارہ بھی ذکر نہیں بلکہ آپ سے پیار اور آپؐ کے نازک مقام کا نہایت اعلیٰ اظہار کیا گیا ہے۔ اس آیت کے متعلق مختلف روایات بیان کی گئی ہیں۔ (1) باب ہذا کی پہلی روایت (۴۹۱۱) أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ فِي الْحَرَامِ يُكَفِّرُ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ (اپنی بیوی سے یہ کہنا کہ تو مجھ پر حرام ہے ، اس کے لئے وہ کفارہ ادا کرے۔ اس روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد نہیں بلکہ عمومی بات کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ میری بیوی مجھ پر حرام ہے تو وہ اس قسم کا کفارہ دے۔ اس قسم کو ایلاء کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم ان ایلاء کرنے والوں کی نسبت فرماتا ہے: لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اللَّه اشهر (البقرة: رۃ:۲۲۷) یعنی جو لوگ اپنی بیویوں کے متعلق قسم کھا