صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 257 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 257

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۵۷ ۶۵ - کتاب التفسير / الطلاق تشریح : وَ أَولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ : اور جن عورتوں کو حمل ہو ان کی عدت وضع حمل سیک ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔صحیح مسلم کی روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضرت سبیعہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: جب وضع حمل ہو گیا تو میں حلال ہو گئی ہوں اور اگر چاہوں تو شادی کر سکتی ہوں۔اس روایت میں ابن شہاب کا بھی ایک قول درج ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں اس میں کوئی حرج نہیں دیکھتا کہ وہ وضع حمل کے بعد شادی کر لے اگر چہ اسے خون جاری ہو، سوائے اس کے کہ اس کا خاوند اس سے قربت نہ کرے جب تک کہ وہ پاک نہ ہو جائے۔(صحیح مسلم ، کتاب الطلاق، باب انقضاء عدة المتوفى عنها زوجها وغيرها بوضع الحمل) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: حمل والی عورتوں کی طلاق کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع حمل تک بعد طلاق کے دوسرا نکاح کرنے سے دستکش رہیں۔اس میں یہی حکمت ہے کہ اگر حمل میں ہی نکاح ہو جائے تو ممکن ہے کہ دوسرے کا نطفہ بھی ٹھہر جائے تو اس صورت میں نسب ضائع ہو گی اور یہ پتہ نہیں لگے گا کہ وہ دونوں لڑکے کس کس باپ کے ہیں۔“ آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۱) وو وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ اَمْرِهِ يُسْرًا : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر کوئی تم میں سے خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا اور کسی بے ثبوت شبہ پر بگڑ نہیں جائے گا تو خدا اس کو تمام مشکلات سے رہائی دے گا اور اس کو ایسے طور سے رزق پہنچائے گا کہ اسے علم نہیں ہو گا کہ مجھے کہاں سے رزق آتا ہے۔“ (آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۵۳)