صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 256
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۵۶ ۶۵ - کتاب التفسير / الطلاق الْأَجَلَيْنِ فَحَدَّثْتُ بِحَدِيثِ سُبَيْعَةَ ان کی تعظیم کیا کرتے تھے تو انہوں نے بھی دو بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ميعادوں میں سے آخری میعاد کا ذکر کیا۔اس پر میں قَالَ فَضَمَّزَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِهِ قَالَ نے حضرت سبیعہ بنت حارث کا واقعہ عبد اللہ بن مُحَمَّدٌ فَفَطِنْتُ لَهُ فَقُلْتُ إِنِّي إِذًا عتبہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا۔کہتے تھے لَجَرِيءٌ إِنْ كَذَبْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کہ عبد الرحمن کے ایک ساتھی نے اپنے ہونٹ کو عُتْبَةَ وَهُوَ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ فَاسْتَحْيَا دانتوں سے دبا کر مجھے اشارہ کیا۔محمد بن سیرین) کہتے تھے: میں اس کی بات سمجھ گیا، میں نے کہا: میں وَقَالَ لَكِنَّ عَمَّهُ لَمْ يَقُلْ ذَاكَ فَلَقِيتُ تو پھر عجب دلیر ہوں اگر میں نے عبد اللہ بن عقبہ أَبَا عَطِيَّةَ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ فَسَأَلْتُهُ کے متعلق جھوٹ کہا جبکہ وہ ابھی کوفہ کے ایک فَذَهَبَ يُحَدِّثُنِي حَدِيثَ سُبَيْعَةَ گوشہ میں موجود ہے۔یہ سن کر وہ شرمندہ ہو گیا۔فَقُلْتُ هَلْ سَمِعْتَ عَنْ عَبْدِ اللهِ اور (عبد الرحمن بن ابی لیلی نے) کہا: لیکن عبد اللہ فِيهَا شَيْئًا فَقَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بن عتبہ کے چچا (حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ) نے فَقَالَ أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ وَلَا ایسا نہیں کہا۔پھر میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے تَجْعَلُونَ عَلَيْهَا الرُّحْصَةَ لَنَزَلَتْ ملا اور اُن سے مسئلہ دریافت کیا تو وہ بھی مجھے سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى: حضرت سبیعہ کا واقعہ بیان کرنے لگے۔میں نے کہا: وَأَوْلَاتُ الْأَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ کیا تم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) سے بھی اس کے متعلق کچھ سنا؟ انہوں نے کہا: ہم حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ) کے پاس بیٹھے تھے۔انہوں نے کہا: کیا تم اس حاملہ عورت پر سختی تو کرتے ہو اور اس پر آسانی نہیں کرتے ؟ عورتوں کے متعلق چھوٹی سورۃ ( یعنی سورۃ الطلاق ) بڑی (یعنی سورۃ البقرۃ) کے بعد ہی اتری تھی (اور اس میں یہ ہے: ) اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنے حمل کو جنیں۔حَملَهُنَّ۔(الطلاق: ٥) طرفه: ٤٥٣٢۔