صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 255
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۵۵ ۶۵ - کتاب التفسير / الطلاق عِنْدَهُ فَقَالَ أَفْتِنِي فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ ابن عباس کے پاس ایک شخص آیا، اور حضرت بَعْدَ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَقَالَ ابْنُ ابو ہریرہ اُن کے پاس بیٹھے تھے۔ وہ کہنے لگا: مجھے عَبَّاسٍ آخِرُ الْأَجَلَيْنِ قُلْتُ أَنَا ایک ایسی عورت کے متعلق فتویٰ دیں جس نے وَأَوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ اپنے خاوند کے (مرنے کے) چالیس رات بعد بچہ حَمْلَهُنَّ (الطلاق: ٥) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ جنا۔ حضرت ابن عباس نے (یہ سن کر) کہا: دو أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ فَأَرْسَلَ مدتوں میں سے آخری مدت گزارے۔ (ابو سلمہ ابْنُ عَبَّاسٍ غُلَامَهُ كُرَيْبًا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ کہتے تھے) میں نے کہا: (قرآن میں تو یوں ہے: وَأَوْلَاتُ الْأَحْمَالِ ۔۔۔) اور حمل والیاں، اُن کی میعاد يَسْأَلُهَا فَقَالَتْ قُتِلَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ وَهِيَ حُبْلَى فَوَضَعَتْ بَعْدَ نے کہا: میں اپنے بھتیجے سے متفق ہوں یعنی ابو سلمہ مَوْتِهِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَخُطِبَتْ فَأَنْكَحَهَا یہ ہے کہ وہ اپنے حمل کو جنیں۔ حضرت ابو ہریرہ سے۔ اس پر حضرت ابن عباس نے اپنے غلام رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ کریب کو حضرت ام سلمہ کے پاس یہ دریافت أَبُو السَّنَابِلِ فِيمَنْ خَطَبَهَا۔ کرنے کے لئے بھیجا۔ انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ طرفه: ٥٣١٨ کا خاوند مارا گیا تھا اور وہ حاملہ تھیں۔ سبیعہ نے اس کے مرنے کے چالیس رات بعد بچہ جنا۔ اسے پیام نکاح بھیجا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح کر دیا۔ اور ابو سنائل بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اس کو پیغام بھیجا تھا۔ ٤٩١٠: وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۴۹۱۰: اور سلیمان بن حرب اور ابو نعمان نے وَأَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ کہا کہ ہمیں حماد بن زید نے بتایا۔ حماد نے ایوب عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ كُنْتُ فِي ہے ، ایوب نے محمد بن سیرین) سے روایت کی۔ حَلْقَةٍ فِيهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَی انہوں نے کہا: میں ایک حلقہ میں تھا جس میں وَكَانَ أَصْحَابُهُ يُعَلِّمُونَهُ فَذَكَرَ آخِرَ عبد الرحمن بن ابی لیلی بھی تھے اور ان کے ساتھی