صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 254
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۵۴ ۶۵ - کتاب التفسير / الطلاق تین ماہ گزرنے کے بعد بھی جبکہ یہ طلاق بائن بن جاتی ہے یہ دونوں دوبارہ نکاح کر کے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو سکتے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ پھر باہم ناچاقی ہو جائے تو پھر وہ دوسری طلاق بھی اسی شرط کے مطابق ایسے طہر میں دینی ہو گی جس میں ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہو اور پھر تین ماہ کا عرصہ سوچ و بچار اور باہمی صلح کے لیے رکھا گیا ہے اور وہ دونوں قانونا میاں بیوی کے ہی رشتے میں منسلک ہوں گے اور رجوع یعنی واپسی کا راستہ ابھی بھی کھلا ہے۔ اس دوسری طلاق اور اس کی عدت کے بعد جب یہ طلاق بائن بن جائے تو پھر ان کے لیے نکاح ثالث کرنے کا موقع موجود ہے۔ اگر پھر طلاق ہو جائے تو اب ان کے پاس نہ رجوع کا حق ہے اور نہ نئے نکاح کا۔ ہاں مگر ایک صورت ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے : حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَة (البقرۃ: ۲۳۱) یعنی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ دوسرے مرد سے نکاح کرے اور اگر وہ دوسرا خاوند اپنی مرضی سے طلاق دے دے تو یہ عورت اپنے پہلے خاوند کی طرف نکاح جدید کے ذریعے سے واپس آسکتی ہے۔ یہ لمباprocess اس لیے ہے تا اجڑا ہوا گھر دوبارہ آباد ہو سکے مگر یہ ایسی قید نہیں جس سے رہائی کے لیے نو ماہ ہر صورت پورے کرنے پڑتے ہیں۔ بلکہ پہلی طلاق کے بعد ہی اگر مر درجوع نہ کرے اور نہ طلاق بائن کے بعد نکاح کے لیے آمادہ ہو تو عملاً تین ماہ کے بعد وہ دونوں آزاد ہوں گے نیز مرد کے رجوع کے باوجود اگر عورت واپس نہ آنا چاہے تو وہ بذریعہ قاضی خلع لے کر اس سے جان چھڑا سکتی ہے۔ پس یہ ایک کامل تعلیم ہے جو اس مسئلے کے ہر پہلو پر حاوی ہے۔ باب ۲ : وَأَوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلُ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا (الطلاق: ٥) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور حمل والیاں، اُن کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنے حمل کو جنیں اور جس نے اللہ کو اپنا سپر بنایا تو اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا { وَ أَوْلَاتُ الْأَحْمَالِ وَاحِدُهَا ذَاتُ اور أَوْلَاتُ الْأَحْمَالِ کا مفرد ذَاتُ حَمْلٍ ہے۔ حَمْلٍ ۔۔} یعنی حمل والی۔ ٤٩٠٩ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصِ ۴۹۰۹ : سعد بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى قَالَ بن عبد الرحمن محوی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ يحي ( بن ابی کثیر ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ جَالِسٌ مجھے ابو سلمہ نے خبر دی۔ انہوں نے کہا: حضرت ا یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق اس جگہ ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۴۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔