صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 253
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۵۳ ۶۵ - کتاب التفسير / الطلاق أَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر دی کہ فَذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ حائضہ تھی تو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ کیا۔ رسول اللہ صلی علیم نے اس پر خفگی کا اظہار کیا اور لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ فرمایا: وہ اسے واپس لوٹالے پھر اس کو اپنے پاس تَحِيضَ فَتَطْهُرَ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا کے تاوقتیکہ وہ پاک ہو جائے۔ پھر اس کے بعد فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا حائضہ ہو اور پاک ہو اور پھر طلاق دینا مناسب معلوم ہو تو چاہیے کہ اس کو پاک ہونے کی حالت میں فَتِلْكَ الْعِدَّةُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ۔ ہی طلاق دے پیشتر اس کے کہ اس کو چھوئے۔ یہ وہ عدت ہے جیسا کہ اللہ نے اس کا حکم دیا۔ أطرافه: ٥٢٥١، ٥٢٥٢، ٥٢٥٣، ٥٢٥٨، ٥٢٦٤ ، ٥٣٣٢، ٥٣٣٣، ٧١٦٠۔ تشريح : فَلْيُطَلِّقُهَا ظَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يُمسها : حضرت ابن عمرؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی کہ وہ اپنی بیوی کو ایسے طہر میں طلاق دیں جس میں ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہو۔ اسلام نے مرد کو طلاق کے ذریعہ اور عورت کو خلع کے ذریعہ رشتہ ازدواج کو ختم کرنے کی اجازت دی ہے مگر اسے أبغض الحلال قرار دیا ہے۔ پس انتہائی ناگزیر حالات میں یہ قدم اٹھانے کی اجازت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ اُن کے لئے دُعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔ جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندہ برتن کی طرح جلد مت توڑو۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلدی احاشیہ صفحہ ۷۵) اسلام نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ رشتہ دار اور معاشرہ میاں بیوی میں صلح کی کوشش کریں اور خاص طور پر فریقین کی طرف سے حکمین کے تقرر کی ہدایت دی گئی ہے جو انتہائی قدم سے پہلے ممکن حد تک صلح کی کوشش کریں۔ پھر بھی اگر صلح نہ ہو اور معاملہ طلاق کی طرف بڑھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تاکیدی حکم دیا ہے کہ مرد ایسے طہر میں طلاق دے جس میں ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہو۔ اور پھر تین ماہ کی عدت مقرر کی ہے جس میں رجوع کا حق دیا گیا ہے۔ گویا عملاً تین ماہ طلاق کے باوجود وہ عورت اسی خاوند کی بیوی ہو گی اور واپسی کا راستہ کھلا ہو گا۔