صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 252 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 252

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۵۲ ۶۵ - کتاب التفسير / الطلاق مراد وہ عورتیں ہیں جن کو بڑھاپے کی وجہ سے یا بیماری کی وجہ سے یا کم عمری کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو۔ نیز حیض کا نہ آنا حمل کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس شک کے رفع کرنے کے لیے کہ ان کے حیض کے نہ آنے کی وجہ حمل تو نہیں ان کی عدت تین ماہ مقرر کی گئی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جو عورتیں حیض سے نومید ہو گئی ہیں اُن کی مہلت طلاق بجائے تین حیض کے تین مہینہ ہیں۔ اور جو خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا خدا اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا۔“ آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۵۳) تین ماہ کا وقت حمل کے ظاہر ہونے کے لیے قانون قدرت کا ایک ایسا واضح اصول ہے جس سے کوئی عورت بھی جو حاملہ ہو ، باہر نہیں رہ سکتی۔ پس تین ماہ میں ان عورتوں کے حمل یا عدم حمل کی بات واضح ہو جائے گی اور شک یقین میں بدل جائے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: دَعْ مَا يُرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يُرِيبُكَ ۔ شک کی بات چھوڑ دو اور اسے اختیار کرو جو ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک ہے۔ یہ درحقیقت وہ اصل الاصول ہے جو زندگی کے جملہ امور میں مشعل راہ کے طور پر کام آتا ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر گناہ کی پہچان یہ بتائی: الْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ کے یعنی گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تو نا پسند کرے کہ لوگوں کو اس کی خبر ہو۔ ایسی بے چینی کو چھوڑنا اور اس امر کو اختیار کرنا جو اطمینان اور تسلی کا باعث ہو نیکی اور تقویٰ ہے اور یہ تبھی نصیب ہوتا ہے جب انسان ہر وقت اللہ کو یاد رکھے کہ وہ مجھے دیکھتا ہے اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ اسی یاد الہی کو اَلَّا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: (۲۹) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عارفانہ کلام میں اسی نکتہ کو با تکرار بیان فرمایا ہے تا پڑھنے اور سننے والا اس حقیقت کو پا سکے۔ فرمایا: سُبحان من يرائی کہ پاک ہے وہ ذات جو مجھے دیکھ رہی ہے۔ یہ تصور انسان کو پاک بنا دیتا ہے۔ باب ۱ ٤٩٠٨ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۴۹۰۸ : يحي بن بکیر نے ہمیں بتایا کہ ہم سے لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ( بن سعد ) نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھے عقیل ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ابن شہاب نے کہا: مجھے سالم نے بتایا کہ حضرت ! (صحيح البخاري، كتاب البيوع، باب تفسير المشبهات) (صحیح مسلم، كتاب البر والصلة والآداب، باب تفسير البر والإثم )