صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 251
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۵۱ ۶۵ - کتاب التفسير / الطلاق ٦٥ - سُورَةُ الطَّلَاقِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَبَالَ امْرِهَا (الطلاق: ۱۰) اور مجاہد نے کہا: وَبَالَ امْرِھا کے معنی ہیں اپنے کام جَزَاءَ أَمْرِهَا ۔ { إِنِ ارْتَبْتُمُ (الطلاق: ٥) کا بدلہ - ان از تبتم یعنی اگر تمہیں معلوم نہ ہو آیا إِنْ لَمْ تَعْلَمُوا أَتَحِيضُ أَمْ لَا تَحِيضُ، اس کو حیض آتا ہے یا حیض نہیں آتا، تو پھر وہ عورتیں فَاللَّاتِي فَعَدْنَ عَنِ الْمَحِيضِ وَاللَّائِي جو کہ حیض سے رہ جائیں اور وہ جنہیں ابھی حیض نہ لَمْ يَحِضْنَ بَعْدُ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَثَةٌ آیا ہو تو ان عورتوں کی عدت تین مہینہ ہے۔ أَشْهُرٍ ۔ (الطلاق: ٥)} تشريح : سُورَةُ الطلاق: حضرت خلیفة الحج الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا نام سورۃ الطلاق ہے اور اس میں آغاز سے لے کر آخر تک طلاق کے متعلق مختلف مسائل کا بیان ہے۔ پچھلی سورت سے اس سورت کا مرکزی نقطه اتصال یہ ہے کہ اس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسے نور کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے جو اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے اور یہی وہ نور ہے جو آخرین کے زمانہ میں ایک دفعہ پھر آپؐ کی امت کے ان لوگوں کو اندھیروں سے نکالے گا جو دنیا کے اندھیروں میں بھٹکتے پھر رہے ہوں گے۔“ (ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورۃ الطلاق صفحہ ۱۰۴۱) وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَبَالَ اَمْرِهَا: اور مجاہد نے کہا وَبَالَ امْرِھا کے معنی ہیں اپنے کام کا بدلہ۔ علامہ عینی لکھتے ہیں کہ وبال کے معنی جزا کے ہیں اور ذاقت میں ضمیر اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ كَان من قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا (الطلاق: ۹) کی طرف راجع ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۴۳، ۲۴۴) جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب کا اور رسولوں کا انکار کیا جس کا نتیجہ نقصان، گھاٹے، ناکامی اور نامرادی کے سوا کچھ نہ نکلا۔ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَثَةُ أَشْهُرٍ : یعنی اگر تمہیں معلوم نہ ہو آیا اس کو حیض آتا ہے یا حیض نہیں آتا تو پھر وہ عورتیں جو کہ حیض سے رہ جائیں اور وہ جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو تو ان عورتوں کی عدت تین ماہ ہے۔ اس سے ا یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق اس جگہ ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ (۲۴۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔