صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 250 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 250

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۵۰ ۶۵ - کتاب التفسير / التغابن ہے۔اس کا ہر عمل اس کے لیے خیر کا باعث ہوتا ہے۔اور یہ مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔اگر اسے کوئی خیر پہنچے تو وہ شکر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی شر پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے۔(صحیح مسلم ، کتاب الزهد والرقاق، باب الْمُؤْمِنُ أَمْرُهُ كُلُّهُ خَيْرُ) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آب غور کرو جن مصائب کے وقت صبر کرنے والے انسان کو ان انعامات کا تصور آ جاوے جو اس کو اللہ کی طرف سے عطا ہونے کا وعدہ ہے تو بھلا پھر وہ مصیبت ، مصیبت رہ سکتی ہے اور غم غم رہتا ہے؟ ہر گز نہیں! پس کیسا پاک کلمہ ہے الحمد للہ اور کیسی پاک تعلیم ہے وہ جو مسلمانوں کو سکھائی گئی ہے۔یہ نہایت ہی لطیف نکتہ معرفت ہے اور دل کو موہ لینے والی بات۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف اسی آیت سے شروع ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام خطبات کا ابتدا بھی اسی سے ہوا ہے۔“ ( حقائق الفرقان جلد اول صفحہ ۲۷۲)