صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 249 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 249

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۴۹ ۶۵ - کتاب التفسير / التغابن سُورَةُ التَّغَابُنِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے وَقَالَ عَلْقَمَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَمَنْ اور علقمہ بن قیس) نے حضرت عبداللہ (بن يُؤْمِنُ بِاللهِ يَهْدِ قَلْبَةُ (التغابن: ۱۲) مسعود سے نقل کرتے ہوئے کہا: وَمَنْ يُؤْمِنُ هُوَ الَّذِي إِذَا أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ رَضِيَ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ۔یعنی جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے بِهَا وَعَرَفَ أَنَّهَا مِنَ اللَّهِ۔اللہ اس کے دل کی رہنمائی کرتا ہے۔اس سے مراد وہ شخص ہے جس کو جب کوئی مصیبت پہنچے تو وہ اس پر راضی رہتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ التَّغَابُنُ غَبْنُ أَهْلِ اور مجاہد نے کہا: التغابن کے معنی ہیں کہ جنتی دوزخیوں سے نفع میں رہیں گے۔الْجَنَّةِ أَهْلَ النَّارِ۔تشریح: سُورَةُ التَّغَابُنِ: اس سورۃ کا آغاز تسبيح يليه ما في السلوت سے کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس سورۃ کا مرکزی مضمون اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید ہے۔پس جو انسان سب سے بڑھ کر خدا کی تسبیح و تحمید کرے گا، وہی سب سے بڑھ کر پاکیزگی اور حمد کے لائق ٹھہرے گا اور یہ شرف انسانِ کامل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا اس لیے آپ کا نام محمد رکھا گیا یعنی سب سے زیادہ تعریف کیا گیا۔اور آپ کو ہی یہ اعزاز بخشا گیا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ - یعنی وہ ایسا پاک اور معصوم وجود ہے جس سے نہ پہلے کوئی گناہ سرزد ہوانہ آئندہ ہو گا۔اس لیے وہ ایک ہی ہے جسے مقام محمود پر فائز کیا جائے گا۔ایسے عالی شان وجود کی طرف نا پاک باتیں منسوب کرنے والے اس چاند چہرہ کو کیا ماند کریں گے وہ گند خود ان ہی کے منہ پر پڑ کر انہیں ذلت اور رسوائی کا نشان بنائے گا۔وَقَالَ عَلْقَمَةُ عَنْ عَبْدِ اللهِ وَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللهِ يَهْدِ قَلْبَهُ: پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے: کوئی مصیبت نہیں آتی مگر اللہ کے حکم سے اور جو اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو کامیابی کے طریقوں کی طرف پھیر دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔علقمہ نے کہا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس کے یہ معنی کیسے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کو جب کوئی مصیبت پہنچے تو وہ اس پر راضی رہتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔یہ دراصل وہی مضمون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر بیان فرمایا کہ مومن کا معاملہ عجیب (پیارا)