صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 248 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 248

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۴۸ ۶۵ - کتاب التفسير / المنافقين الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ النَّبِيُّ شخص کے (ٹرین پر) لات لگائی ہے تو انصاری صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا بولا : اے انصار یو! مدد کو پہنچنا۔اور مہاجر نے کہا: مُنْتِنَةٌ قَالَ جَابِرٌ وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ حِينَ اے مہاجرو! مدد کو پہنچنا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ نے (یہ سن کر) فرمایا: اس حال پکار کو چھوڑو کیونکہ ثُمَّ كَفُرَ الْمُهَاجِرُونَ بَعْدُ فَقَالَ یہ بدبودار باتیں ہیں۔حضرت جابر نے کہا: جب عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيَ أَوَقَدْ فَعَلُوا وَاللهِ في صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ میں) آئے انصار لَمِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْآعَد زیادہ تھے پھر بعد میں مہاجرین بھی بہت ہو گئے۔مِنْهَا الْأَذَلَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عبد الله بن أبي نے (یہ سن کر) کہا: مہاجروں نے اللهُ عَنْهُ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ایسا کیا ہے ؟ اللہ کی قسم اگر ہم مدینہ کو واپس گئے تو رَضِيَ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ قَالَ النَّبِيُّ جو معزز ہو گا تو وہ ذلیل کو وہاں سے ضرور نکال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ لَا دے گا۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ (یہ سن کر) کہا: یارسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے جانے دو۔کہیں لوگ باتیں نہ کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو مرواتا ہے۔أَصْحَابَهُ۔أطرافه: ٣٥١٨، ٤٩٠٥ - تشريح۔يَقُولُونَ لَينْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينة : زیر باب روایت میں جو واقعہ مذکور ہے اس کا تعلق غزوۃ المریسیع سے ہے۔اس غزوہ کا دوسرا نام غزوہ بنی مصطلق ہے۔مریسیع مقام پر بنو مصطلق سے جھڑپ ہوئی تھی۔ایک انصاری اور مہاجر کے درمیان کھیل میں ایک دوسرے کے ساتھ چپقلش ہوئی۔مہاجر کا نام جہجاہ بن قیس تھا جو حضرت عمر بن خطاب کے اجیر ( مزدوری پر کام کرنے والے) تھے اور انصاری کا نام سنان بن وبرہ تھا جو بنو سالم خزرجی کے حلیف تھے۔مہاجر نے کھیلتے کھیلتے ان کے سرین پر مارا جس سے بد مزگی پیدا ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معاملہ رفع دفع کر دیا۔(فتح الباری جزء۶ صفحہ ۲۶۸) عبداللہ بن اُبی بن سلول رئیس المنافقین نے اس واقعہ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی اور مذکورہ بالا دھمکی دی۔