صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 247 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 247

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۴۷ ۶۵ - کتاب التفسير / المنافقين لیکن مومن اس پر ایمان لاتا اور یقین کرتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر سب لوگ جو اس وقت موجود ہیں اور اس سلسلہ میں داخل ہیں یہ سمجھ کر کہ آئے دن ہم پر بوجھ پڑتا ہے وہ دست بردار ہو جائیں اور بخل سے یہ کہیں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے تو خدا تعالیٰ ایک اور قوم پیدا کر دے گا جو ان سب اخراجات کا بوجھ خوشی سے اٹھائے اور پھر بھی سلسلہ کا احسان مانے۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۶۵۱۶۵۰) باب ۷ يَقُولُونَ لَبِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَةُ مِنْهَا الْأَذَلَ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ (المنافقون: ٩) (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانان ) وہ کہتے ہیں اگر ہم مدینہ کو لوٹے تو جو زیادہ معزز ہے وہ ذلیل کو وہاں سے ضرور نکال دے گا حالانکہ عزت اللہ ہی کی اور اس کے رسول کی اور مومنوں کی ہے لیکن منافق نہیں جانتے ہم ایک غزوہ میں تھے۔مہاجروں میں سے ایک ٤٩٠٧: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۴۹۰۷ (عبد اللہ بن زبیر ) حمیدی نے ہم سے سُفْيَانُ قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرِو بنِ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ انہوں نے کہا: عمرو بن دینار سے ہم نے یہ حدیث رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كُنَّا فِي غَزَاةٍ سن کر) یا درکھی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت فَكَسَعَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِّنَ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے: الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ مخص نے ایک انصاری شخص کو (شرین پر لات وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ماری۔انصاری پکارا: اسے انصار یو! مدد کو پہنچو۔فَسَمَّعَهَا اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ اور مہاجر نے پکارا: اے مہاجر و! مدد کو پہنچو۔اللہ وَسَلَّمَ قَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا كَسَعَ رَجُلٌ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حال و پکار مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِّنَ الْأَنْصَارِ سنائی۔آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ مہاجرین میں سے ایک شخص نے ایک انصاری