صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 246
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۴۶ ۶۵ کتاب التفسير / المنافقين عَلَى مَنْ أُصِيبَ بِالْحَرَّةِ فَكَتَبَ إِلَيَّ میں جو (صحابہ) مارے گئے اُن کے لئے میں غمگین زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَبَلَغَهُ شِدَّهُ حُزْنِي يَذْكُرُ ہوا۔حضرت زید بن ارقم کو میرے سخت غمگین أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہونے کی خبر پہنچی تو انہوں نے مجھے خط لکھا جس میں وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ انہوں نے ذکر کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ا یم وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَشَكَ ابْنُ الْفَضْلِ سے سنا۔آپ یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ ! انصار اور انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما۔اور (عبد اللہ ) فِي أَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ فَسَأَلَ أَنَسًا بَعْضُ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَقَالَ هُوَ بن فضل راوی کو شک ہے آپ نے پوتوں کا بھی ذکر فرمایا یا نہیں۔حضرت انس سے ان لوگوں الَّذِي يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ میں سے کسی نے پوچھا جو اُن کے پاس تھے (کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الَّذِي أَوْفَى اللَّهُ لَهُ حضرت زید بن ارقم کیسے تھے) تو انہوں نے بِأُذُنِهِ۔کہا: یہ وہی ہیں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: یہ وہ شخص ہے جس کی اللہ نے پورے طور پر تصدیق کی اس بات میں) جو اُس کے کان نے سنی تھی۔تشريح۔هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِندَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَايِنُ السّواتِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول کے پاس جو لوگ رہتے ہیں اُن پر خرچ نہ کرو، یہاں تک کہ وہ (فاقوں سے تنگ آکر) بھاگ جائیں۔حالانکہ آسمان اور زمین کے خزانے اللہ کے پاس ہیں لیکن منافق سمجھتے نہیں۔مراد یہ ہے کہ منافقین کہتے ہیں کہ ان غریب مسلمانوں پر خرچ نہ کرو یہ بھوک اور افلاس سے تنگ آکر بھاگ جائیں گے۔عربی محاورہ ہے : كل إناء يترشح بما فيه یعنی ہر برتن کے اندر جو ہوتا ہے وہی باہر آتا ہے۔اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کمزور مسلمانوں کو تو بہت کچھ دیا مگر یہ منافقین حسرت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وہ شخص بڑا نادان ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ آئے دن ہم پر بوجھ پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے: وَلِلَّهِ خَزَايِنُ السّمواتِ وَالْأَرْضِ (المنافقون:۸) یعنی خدا تعالیٰ کے پاس آسمان و زمین کے خزانے ہیں۔منافق ان کو سمجھ نہیں سکتے