صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 245
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۴۵ ۶۵ - کتاب التفسير / المنافقين النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ مجھے اجازت دیں کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ أَكْثَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ في صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانے دو، کہیں لوگ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ثُمَّ إِنَّ الْمُهَاجِرِينَ باتیں نہ کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو مرواتا ہے۔ كَفُرُوا بَعْدُ۔ قَالَ سُفْيَانُ فَحَفِظْتُهُ اور انصار مہاجرین سے جب یہ مدینہ میں آئے ہو گئے۔ مِنْ عَمْرٍو قَالَ عَمْرُو سَمِعْتُ جَابِرًا زیادہ تھے۔ پھر اس کے بعد مہاج راس کے بعد مہاجرین بہت ہو۔ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ سفیان نے کہا: میں نے عمرو بن دینار) سے أطرافه: ٣٥١٨، ٤٩٠٧ - یہ حدیث (سن کر) یاد رکھی۔ عمرو نے کہا: میں نے حضرت جابر سے سنا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے (اور پھر سارا واقعہ بیان کیا۔) بَاب ٦ : قَوْلُهُ هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا ( المنافقون: ۸) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے پاس جو ہیں انہیں خرچ مت دو تا کہ وہ بکھر جائیں يَنْفَضُّوا (المنافقون: ۸) يَتَفَرَّقُوا۔ يَنفَضُّوا کے معنی ہیں وہ بکھر جائیں۔ باب وَ لِلَّهِ خَزَائِنُ السَّبُواتِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ (المنافقون: ۸) اور اللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کے خزانے ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے ٤٩٠٦ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ ۴۹۰۶: اسماعیل بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ کہا: اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے مجھے بتایا۔ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے روایت کی۔ کہا: قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْفَضْلِ عبد الله بن فضل نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ حَزِنْتُ انس بن مالک سے سنا، وہ کہتے تھے : حرہ کے واقعہ