صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 244
صحیح البخاری جلد ۱۲ م ۲۴ ۶۵ - کتاب التفسير / المنافقين ط بابه : قَوْلُهُ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمُ اَم لَمْ تَسْتَغْفِرُ لَهُم ، لَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ (المنافقون: ۷) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ان کے نزدیک یکساں ہے کہ تو ان کے لئے مغفرت کی دعا کرے یا ان کے لئے مغفرت کی دعانہ کرے، اللہ ان کی ہرگز مغفرت نہیں کرے گا اور اللہ بد عہد لوگوں کی کبھی رہنمائی نہیں کرتا رَضِيَ ٤٩٠٥ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ :۴۹۰۵: علی ( بن عبد اللہ مدینی) نے ہم سے بیان قَالَ عَمْرُو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔عمر و ( بن اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا فِي غَزَاةٍ دينار) نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فِي جَيْشِ فَكَسَعَ (انصاری) رضی اللہ عنہما سے سنا۔انہوں نے کہا: ہم رَجُلٌ مِّنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِّنَ الْأَنْصَارِ ایک غزوہ میں تھے۔سفیان نے ایک دفعہ یوں کہا: فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ ہم ایک فوج میں تھے تو مہاجرین میں سے ایک الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَسَمِعَ ذَاكَ شخص نے ایک انصاری شخص کے (سرین پر) لات رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ماری۔وہ انصاری بولا: انصاریو! مدد کو پہنچو۔اور اس مہاجر نے کہا: مہاجرین ! مد دکو پہنچو۔رسول اللہ مَا بَالُ دَعْوَى جَاهِلِيَّةٍ قَالُوا يَا رَسُولَ الم نے یہ سنا۔آپ نے فرمایا: یہ جاہلیت کی پکار اللهِ كَسَعَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا کیا کرنے لگے ہو۔لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ؟ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ مہاجرین میں سے ایک شخص نے ایک انصاری کے فَسَمِعَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيَ فَقَالَ (سرین پر لات لگائی ہے۔آپ نے فرمایا: ان فَعَلُوهَا أَمَا وَاللَّهِ لَبِنْ رَّجَعنَا إِلَى باتوں کو جانے دو کیونکہ وہ بد بودار ہیں۔تو عبد اللہ الْمَدِينَةِ لِيُخْرِجَنَّ الْاَعَةُ مِنْهَا الْأَذَلَ بن اُبی نے یہ بات سنی تو وہ کہنے لگا: انہوں نے ایسا فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیا ہے۔اچھا اللہ کی قسم اگر ہم مدینہ کو لوٹے تو جو فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ دَعْنِي اُن میں سے معزز ہیں وہ ذلیل کو وہاں سے ضرور أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ النَّبِيُّ نکال دیں۔یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ حضرت عمر کھڑے ہو گئے اور کہا: یارسول اللہ !