صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 243 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 243

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۴۳ ۶۵ - کتاب التفسير / المنافقين رَسُوْلِ اللهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا وَلَبِنْ رَّجَعْنَا رسول اللہ کے پاس ہیں انہیں خرچ مت دو تا کہ إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا وہ بکھر جائیں اور اگر ہم مدینہ کو لوٹے تو جو زیادہ الْأَذَلَّ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمّي فَذَكَرَهُ معزز ہو گا وہ ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا۔میں عَمِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اپنے چچا سے اس کا ذکر کیا۔میرے چچانے نبی وَصَدَّقَهُمْ فَدَعَانِي فَحَدَّثْتُهُ فَأَرْسَلَ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔اور آپ نے ان إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيَ وَأَصْحَابِهِ فَخَلَفُوا (لوگوں) کو سچا سمجھا۔آپ نے مجھے بلایا اور میں نے آپ سے بیان کیا۔آپ نے عبد اللہ بن ابی قَالُوا وَكَذَّبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ اور اس کے ساتھیوں کو بلا بھیجا۔انہوں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَنِي غَمْ لَمْ يُصِبْنِي تمیں کھائیں کہ انہوں نے یہ نہیں کہا۔نبی مِثْلُهُ قَطُّ فَجَلَسْتُ فِي بَيْتِي وَقَالَ صلى اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا ٹھہرایا۔مجھے اس عَتِي مَا أَرَدْتَ إِلَى أَنْ كَذَّبَكَ النَّبِيُّ ے ایسا غم پہنچا کہ ایسا غم مجھے کبھی نہیں پہنچا تھا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَقَتَكَ فَأَنْزَلَ میں اپنے گھر میں بیٹھا رہا اور میرے چچانے کہا: اللهُ تَعَالَى : اِذَا جَاءَ كَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا تمہیں کیا سوجھی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ (المنافقون: ۲) تمہیں جھوٹا قرار دیا اور تم سے ناراض ہو گئے۔پھر وَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ الله تعالیٰ نے یہ (سورۃ) نازل کی: اِذَا جَاءَكَ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهَا وَقَالَ إِنَّ اللهَ قَدْ الْمُنْفِقُونَ۔۔۔یعنی جب تیرے پاس منافق آتے صَدَّقَكَ۔ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم قسم کھا کر گواہی دیتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا اور آپ نے یہ سورۃ پڑھی اور فرمایا: اللہ نے تمہیں سچا قرار دیا۔أطرافه: ٤۹۰۰، ٤٩٠١، ٤٩٠ ، ٤٩٠٣ -