صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 242 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 242

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۴۲ ۶۵ - کتاب التفسير / المنافقين شِدَّةٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ان کے ایسا کہنے سے مجھے سخت تکلیف ہوئی۔ آخر تَصْدِيقِي فِي : إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ الله عز و جل نے میری تصدیق میں یہ وحی نازل (المنافقون: ٢) فَدَعَاهُمُ النَّبِيُّ كى : إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ یعنی جب تیرے پاس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ منافق آتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فَلَوْوْا رُءُوسَهُمْ وَقَوْلُهُ خُشُبٌ مُسَلَّدَةٌ بلایا تاکہ ان کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں۔ (المنافقون: ٥) قَالَ كَانُوا رِجَالًا أَجْمَلَ انہوں نے اپنے سر تان لئے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ شَيْءٍ۔ -أطرافه: ٤٩٠٠، ٤٩٠١، ٤٩٠٢، ٤٩٠٤ فرمانا: خُشُبٌ مُسَنَدَةً - کہا: اس کا یہ ۔ : اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ بڑے خوبصورت مرد تھے۔ باب ٤ : قَوْلُهُ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لو وارُءُوسَهُم وَرَأَيْتَهُم يَصُدُّونَ وَهُمْ دونَ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ (المنافقون : ٦ ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ آؤ! اللہ کا رسول تمہارے لیے استغفار کرے تو وہ اپنے سر ( تکبر اور انکار سے) پھیر لیتے ہیں اور تُو اُن کو دیکھتا ہے کہ وہ راہِ حق سے لوگوں کو پھرا رہے ہیں اور وہ تکبر کی مرض میں مبتلا ہیں حَرَّكُوا اسْتَهْزَءُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ لَوَّوا کے معنی ہیں) انہوں نے ہلائے۔ یعنی نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُقْرَأُ بِالتَّخْفِيفِ مِنَ صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹھٹھا کیا اور واؤ کی تخفیف لَّوَيْتُ۔ سے (لووا) بھی پڑھا جاتا ہے کویت سے۔ یعنی پھیر لیا۔ ٤٩٠٤ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ ۴۹۰۴ : عبید اللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابو اسحاق عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كُنْتُ مَعَ ہے ، ابو اسحاق نے حضرت زید بن ارقم سے روایت عَمِّي فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبَيِّ ابْنَ کی۔ انہوں نے کہا: میں اپنے چا کے ساتھ تھا اور سَلُولَ يَقُولُ لَا تُنْفِقُوْا عَلَى مَنْ عِنْدَ میں نے عبد اللہ بن اُبی بن سلول کو یہ کہتے سنا: جو