صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 241
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۴۱ ۶۵ - کتاب التفسير / المنافقين بَاب : وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ وَإِن يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ كَأَنَّهُمْ خُشُبُ مُسَنَدَةٌ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ هُمُ الْعَدُو ، فَاحْذَرُهُم قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (المنافقون: ٥) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) جب تو اُن کو دیکھتا ہے اُن کے جسم تجھے اچھے معلوم ہوتے ہیں اور اگر وہ بات کریں تو تو ان کی بات کو سن لیتا ہے۔وہ ایسے ہیں جیسے لکڑیاں، جن کو سہارا دے کر کھڑا کیا جائے۔ہر ایک عذاب کو اپنے لئے ہی سمجھتے ہیں۔وہی دشمن ہیں تو ان سے بچتارہ۔اللہ انہیں ہلاک کرے۔کہاں کو وہ پلٹ رہے ہیں۔٤٩٠٣ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا :۴۹۰۳ عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ بن معاویہ نے ہمیں بتایا۔ابو اسحاق نے ہم سے قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَالَ خَرَجْنَا بیان کیا، کہا: میں نے حضرت زید بن ارقم سے سنا۔مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ فَقَالَ ایک سفر میں نکلے جس میں لوگوں کو سخت تکلیف عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ حَتَّى پہنچی۔عبد اللہ بن اُبی نے اپنے ساتھیوں سے کہا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَي لِأَصْحَابِهِ لَا تُنْفِقُوْا جو رسول اللہ کے پاس ہیں انہیں خرچ مت دو، وہ آپ کے آس پاس سے تتر بتر ہو جائیں گے۔اور يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ وَقَالَ لَمِنْ رَّجَعْنَا کہا: اگر ہم مدینہ لوٹے تو جو زیادہ معزز ہے وہ ذلیل إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا کو وہاں سے ضرور نکال دے گا۔میں (یہ سن کر) الْأَذَلَّ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ في صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو خبر وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ کردی۔آپ نے عبد اللہ بن ابی کو بلا بھیجا اور اس بْنِ أُبَيَ فَسَأَلَهُ فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ سے پوچھا۔اس نے بڑے زور سے قسم کھائی کہ قَالُوا كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله اس نے ایسا نہیں کہا۔لوگ کہنے لگے : زید نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا ہے۔