صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 240
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۴۰ ۶۵ - کتاب التفسير / المنافقين الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حکم سے روایت الْقُرَظِيَّ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ کی، کہا: میں نے محمد بن کعب قرظی سے سنا۔انہوں رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ نے کہا: میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بْنُ أَبَيّ: لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ سے سنا۔وہ کہتے تھے: جب عبد اللہ بن اُبی نے رَسُولِ اللهِ (المنافقون: ۸) وَقَالَ أَيْضًا کہا کہ جو رسول اللہ کے پاس ہیں انہیں خرچ مت لين رجعنا إِلَى الْمَدِينَةِ (المنافقون: 9) دو اور یہ بھی کہا کہ اگر ہم مدینہ کو لوٹے تو (ویسا کریں گے۔) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس أَخْبَرْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی خبر کر دی تو انصار نے مجھے ملامت کی اور فَلَامَنِي الْأَنْصَارُ وَحَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عبد اللہ بن اُبی نے قسم کھالی کہ اس نے ایسا نہیں أُبَيَ مَا قَالَ ذَلِكَ فَرَجَعْتُ إِلَى الْمَنْزِلِ کہا۔میں اپنے گھر کو لوٹا اور سو رہا۔پھر رسول اللہ فَنِمْتُ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔میں آپ کے پاس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ إِنَّ اللهَ قَدْ آیا۔آپ نے فرمایا: اللہ نے تمہیں سچا قرار دیا صَدَّقَكَ وَنَزَلَ هُمُ الَّذِيْنَ يَقُولُونَ لَا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی: هُمُ الَّذِيْنَ يَقُولُونَ تُنْفِقُوا (المنافقون: ۸) الآيَةَ۔وَقَالَ لا تُنْفِقُوا یعنی یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ خرچ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرٍو نہ کرو۔اور ابن ابی زائدہ نے بھی (اس حدیث عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ زَيْدِ کو بیان کیا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے بْنِ أَرْقَمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عمرو بن مرہ) سے، عمرو نے عبد الرحمن بن ابی لیلی سے، عبدالرحمن نے حضرت زید بن ارقم وَسَلَّمَ۔سے، حضرت زید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔أطرافه ۱۹۰۰، ۱۹۰۱، ٤٩۰۳، ٤٩٠٤۔