صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 239 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 239

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۳۹ ۶۵ - کتاب التفسير / المنافقين میں ایک بھی منافق نہ رہا۔بلکہ یہ فرمایا مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أَخِذُوا وَقُتِلُوا تَقتِيلا (احزاب: ۶۲) اللہ تعالیٰ نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ تیری مجاورت میں بھی نہ رہیں۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحه ۱۳۵، ۱۳۶) نیز فرمایا: عزت اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے۔منافقین ایسی باتوں سے بے علم ہیں۔پس مومن اور پھر ذلیل، یہ غیر ممکن ہے۔مومن تو اسی دنیا میں بہشت پالیتا ہے۔صحابہ کرام نے جب جاہلیت کے عقائد فاسدہ سے توبہ کی اور اسلام کے پاک عقائد اختیار کیے تو سب سے پہلی جنت ان کے لیے یہی تھی۔پھر جب مکہ سے مدینہ ہجرت کی تو یہ بھی ان کے لیے جنت ہی تھی۔پھر جب ملک پر ملک فتح کیے تو ایک دنیا کے فاتح کہلائے تو یہ بھی ان کے لیے جنت تھی۔پھر جب دنیا سے کوچ کرنے پر پہلی منزل قبر ( قبر وہ ہے جہاں انسان اپنے اعمال کے بدلہ میں بعد الموت رہتا ہے) بھی روضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الجَنَّةِ ہو گئی! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیبیاں جنگ میں اپنے ساتھ رکھتے۔دراصل آپ ان جاہلوں کو یہ سمجھاتے تھے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ مجھے ذلیل نہیں کرتا ور نہ جنگ کیسے خطرے کا موقع ہے اور دستور کے لحاظ سے بیبیوں کا قید میں پڑ جانا اور اور طرح ذلیل ہونا ممکن ہے۔مگر اللہ تعالیٰ میرا حامی و ناصر ہے وہ مومن کے اعداء کو کوئی ایسا موقع نہیں دیتا۔“ (حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحہ ۱۳۶) کوچ بَاب ٣ : قَوْلُهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ أَمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطِيعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ (المنافقون: ٤) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یہ اس لئے کہ وہ ایمان لائے پھر انہوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اور وہ کچھ نہیں سمجھتے ٤٩٠٢ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ۴۹۰۲ آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا