صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 238
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۳۸ ۶۵ - کتاب التفسير / المنافقين فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔رسول اللہ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيَ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی اور اس کے مَا قَالُوا فَصَدَّقَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ ساتھیوں کو بلا بھیجا۔انہوں نے قسمیں کھائیں کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَّبَنِي فَأَصَابَنِي هَمَّ لَمْ انہوں نے ایسا نہیں کہا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ يُصِبْنِي مِثْلُهُ فَجَلَسْتُ فِي بَيْتِي فَأَنْزَلَ وَسلم نے ان کو سچا سمجھا اور مجھے جھوٹا ٹھہرایا۔مجھے اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ إِلَى اس سے اتنا فکر ہوا کہ ایسا فکر مجھے کبھی نہیں ہوا۔قَوْلِهِ هُمُ الَّذِيْنَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَیٰ میں اپنے گھر میں بیٹھ رہا۔پھر اللہ عز وجل نے یہ آیات نازل کیں: إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ۔۔۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا اور آپ مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ لَيُخْرِجَنَّ الاَعَةُ مِنْهَا الْأَذَل (المنافقون: ٢ - ٩) نے میرے سامنے یہ آیات پڑھیں اور فرمایا: اللہ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے تمہیں سچا قرار دیا ہے۔وَسَلَّمَ فَقَرَأَهَا عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ۔أطرافه: -٤٩، ٤٩٠٤۰۳ ،۴۹۰۲ ،٤٩٠٠ تشریح: : اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً : انہوں نے اپنی قسموں کو ( تیری گرفت سے بچنے کے لیے ڈھال بنالیا ہے۔ان آیات کی تفسیر میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میں نے بار ہا سنایا ہے کہ جب مامور من اللہ آتا ہے تو لوگوں کو اس کی مخالفت کا ایک جوش مارتا ہے۔اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کے اعزاز کے لیے مل جائے اس کو کوئی ذلیل نہیں کر سکتا۔مدینہ طیبہ میں ایک راس المنافقین کا ارادہ ہو ا لَبِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاعَةُ مِنْهَا الْأَذَلَ اگر ہم لوٹ کر مدینہ پہنچیں گے تو ایک ذلیل گروہ کو معزز گروہ نکال دے گا۔جناب الہی نے فرمایا وَ لِلهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ معزز تو اللہ ہے اور اس کا رسول اور اس کی جماعت۔منافقوں کو یہ کبھی سمجھ نہیں آتی۔آخر ایام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم