صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 237
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۳۷ ۶۵ - کتاب التفسير / المنافقين تھی یہاں تک کہ اپنے متعلق اہلِ مدینہ میں سے سب سے معزز ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کے بر عکس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گستاخانہ کلمات کہتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ وہ مدینہ جانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ سے نکال دے گا۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے جو کچھ دکھایا وہ اس کے بالکل برعکس تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عفو کا عظیم نمونہ دکھاتے ہوئے، طاقت رکھتے ہوئے بھی اس کو مدینہ سے باہر نہ نکالا اور اس کے مرتے دم تک اس کے لئے استغفار کرتے رہے یہاں تک کہ بالآخر اللہ تعالیٰ نے حکما منع فرما دیا کہ آئندہ اس کی قبر پر کھڑے ہو کر اس کے لئے دعائے مغفرت نہ کیا کریں۔“ ( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ المنافقون صفحه ۱۰۳۲) بَاب ٢ : اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً (المنافقون: ٣) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) انہوں نے اپنی قسموں کو (تیری گرفت سے بچنے کے لیے ) ڈھال بنالیا ہے یعنی ان کے ذریعہ بچاؤ کرتے ہیں۔يَجْتَتُونَ بِهَا۔٤٩٠١: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ :۴۹۰۱ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ اسرائيل ( بن یونس) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ ابو اسحاق سبیعی) سے، ابو اسحاق نے حضرت زید مَعَ عَمِّي فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيِّ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے ابْنَ سَلُولَ يَقُولُ لا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْد کہا: میں اپنے چچا کے ساتھ تھا۔میں نے عبد اللہ بن أبي بن سلول کو یہ کہتے سنا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا وَقَالَ أَيْضًا علیہ وسلم کے پاس ہیں ان کو مت کچھ خرچ دو تا کہ لَبِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ وہ تتر بتر ہو جائیں۔اور اس نے یہ بھی کہا: اگر ٢ الآعَدُّ مِنْهَا الْأَذَلَ (المنافقون: ۲-۹) ہم مدینہ کو لوٹے تو جو زیادہ معزز ہے وہ ضرور فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي فَذَكَرَ عَمِّي ذلیل کو اس سے نکال دے گا۔میں نے اپنے چچا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے اس کا ذکر کیا اور میرے چانے رسول اللہ