صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 236 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 236

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۳۶ ۶۵ - کتاب التفسير / المنافقين وَصَدَّقَهُ فَأَصَابَنِي هَمَّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ انہوں نے یہ نہیں قَطُّ فَجَلَسْتُ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ لِي کہا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا سمجھا عَمِّي مَا أَرَدْتَ إِلَى أَنْ كَذَّبَكَ اور اُسے سچا قرار دیا۔مجھے اس سے اتنا فکر ہوا کہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایسا فکر کبھی نہیں ہوا تھا۔میں اپنے گھر میں بیٹھ وَمَقَتَكَ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى إِذَا جَاءَكَ رہا۔مجھے میرے چانے کہا: تمہیں کیا سو جھی تھی الْمُنْفِقُونَ (المنافقون: ۲) فَبَعَثَ إِلَيَّ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں جھوٹا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ سمجھا اور تم سے ناراض ہو گئے۔تب اللہ تعالیٰ نے فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ يَا زَيْدُ۔آیت نازل کی: اِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ یعنی جب منافق تیرے پاس آتے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا اور آپ نے (یہ آیت) پڑھی۔پھر فرمایا: زید ! اللہ نے تجھے سچا قرار دیا۔أطرافه: ۱۹۰۱، ٤٩۰۲، ٤٩٠٣، ٤٩٠٤۔تشريح۔إذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ الله تعالی فرماتا ہے: إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا تَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ الله وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ تَكْذِبُونَ ، یعنی جب تیرے پاس منافق آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم قسم کھا کر گواہی دیتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے۔اور اللہ جانتا ہے کہ تو اُس کا رسول ہے۔مگر ساتھ ہی) اللہ قسم کھا کر گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا آغاز ہی اس بات سے کیا گیا ہے کہ جس طرح فی زمانہ بعض منافقین قسمیں کھاتے ہیں کہ تو ضرور اللہ کا رسول ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ واقعہ تو اللہ کا رسول ہے مگر اللہ یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں، اسی طرح آخرین کے دور میں مسلمانوں میں سے ایک کثیر تعداد کا یہی حال ہو چکا ہو گا۔۔۔اسی سورت میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پیدا ہونے والے رئیس المنافقین یعنی عبد اللہ بن اُبی بن سلول کا ذکر آیا ہے کہ کس طرح اس نے ایک غزوہ سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح طور پر انتہائی گستاخی کی