صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 235
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۳۵ ۶۵ - كتاب التفسير / المنافقين ٦٣- سُورَةُ الْمُنَافِقِينَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے باب ۱ : قَوْلُهُ إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ إِلَى تَكْذِبُونَ (المنافقون: ٢) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: جب تیرے پاس منافق آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم قسم کھا کر گواہی دیتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے۔ اور اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے۔ مگر (ساتھ ہی) اللہ قسم کھا کر گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں ٤٩٠٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ۴۹۰۰: عبد اللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ اسرائيل (بن یونس) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كُنْتُ فِي غَزَاةٍ ابو اسحاق سے ، ابو اسحاق نے حضرت زید بن ارقم فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيِّ يَقُولُ لَا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں ایک غزوہ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ حَتَّی میں تھا تو میں نے عبداللہ بن اُبی کو یہ کہتے سنا: جو يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ وَلَئِنْ رَجَعْنَا مِنْ رسول اللہ کے پاس ہیں ان کو خرچ نہ دو۔ وہ آپ عِنْدِهِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَل کے پاس سے تربتر ہو جائیں گے۔ اور اگر ہم اس غزوہ سے لوٹے تو جو زیادہ معزز ہو گا وہ ذلیل کو فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي أَوْ لِعُمَرَ فَذَكَرَهُ ضرور اس سے نکال دے گا۔ میں نے اپنے چچا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي رض (حضرت سعد بن عبادہ) سے یا حضرت عمرؓ سے فَحَدَّثْتُهُ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ اس کا ذکر کیا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبَي سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے مجھے بلایا اور میں نے وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا فَكَذَّبَنِي آپ سے بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا بھیجا۔