صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 233
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۳۳ ۶۵ - کتاب التفسير / الجمعة وَ إِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا إِنْفَضُّوا إِلَيْهَا جب وہ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یہ تجارت یا تماشہ دیکھنے والے ایسے ہی لوگ تھے۔ ۲ھ اور سھ کا عرصہ خاص طور پر جنگوں کا تھا۔ صرف ۲ھ میں سات چھوٹے بڑے حملے ہوئے۔ پس اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ کسی خاص واقعہ کی بناء پر مذکورہ بالا تنبیہ نازل ہوئی تھی اور اس قسم کے واقعہ کا ابتدائی زمانہ میں رونما ہونا طبعی امر تھا تو نماز سے کھسکنے والے یقینا ایسے ہی کمزور طبع لوگ تھے جو مدینہ میں ہی رہے اور جنہیں جنگی دستوں کے ساتھ احتیاطاً نہیں بھیجا گیا تھا کہ میدان جنگ میں گڑ بڑ پیدا نہ کریں۔ بارہ کی تعداد سے نہ روایت نہ درایتاً ثابت ہے کہ تمام انصار و مہاجرین مشار الیہ واقعہ کے وقت جمعہ میں موجود تھے جو قافلے کی خبر سن کر بھاگ پڑے اور آپ کو تنہا چھوڑ دیا ہو۔ بلکہ زیادہ سے زیادہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ بھاگنے والے منافقین تھے نہ کہ جاں نثار انصار و مہاجرین۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح كتاب الجمعة ، باب إِذَا نَفَر النَّاسُ عَنِ الْإِمَام جلد ۲ صفحہ ۳۳۳،۳۳۲) حضرت شاہ صاحب مزید فرماتے ہیں: فتح الباری میں چار پانچ واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں لوگ نماز چھوڑ کر گئے ہیں اور ہر واقعہ میں آیت محولہ بالا کے شان نزول کا انہی الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے۔ (دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۴۵، ۵۴۶) نزلت سے یہ بھی ثابت کیا جا چکا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے محاورہ کلام میں لفظ نزلت سے تطبیق مراد تھی نہ یہ کہ سورۃ جمعہ کی آیات کا ہر دفعہ نزول۔“ صحیح بخاری ترجمه و شرح کتاب الجمعي، باب إذا نقرَ النَّاسُ عَنِ الْإِمَامِ جلد ۲ صفحہ ۳۳۲) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” اس کے آخر پر یہ پیشگوئی بھی کر دی گئی کہ بعد کے آنے والے مسلمان مال کمانے اور تجارتوں میں مشغول ہو کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ دیں گے۔ اس آیت کے متعلق بعض علماء کا یہ کہنا کہ گویا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا ہوا کرتا تھا کہ آپ کے انتہائی مخلص صحابہ جنہوں نے کبھی آنحضور صلی اللہ