صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 232
حیح البخاری جلد ۱۲ ۲۳۲ ۶۵ - كتاب التفسير / الجمعة وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی۔انہوں نے کہا: جمعہ کے دن غلہ لئے ہوئے وَسَلَّمَ فَقَارَ النَّاسُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ ایک قافلہ سامنے سے آیا اور اس وقت ہم نبی رَجُلًا فَأَنْزَلَ اللهُ: وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أو صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔یہ دیکھ کر لوگ اُٹھ لَهُمَا انْفَضُّوا إِلَيْهَا۔(الجمعة : ١٢) بھاگے سوائے بارہ آدمیوں کے۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : وَ إِذَا رَاوَاتِجَارَةٌ۔۔۔یعنی اور أطرافه : ٠٩٣٦ ٢٠٥٨، ٢٠٦٤ - وو جب وہ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ريح۔وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أو لھوا: اور جب وہ کسی تجارت یا تماشہ کو دیکھتے ہیں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سورہ جمعہ ہجرت سے دوسرے سال نازل ہوئی۔اس وقت مہاجرین اور انصار کی تعداد کافی تھی اور ان مخلص نفوس قدسیہ کی نسبت جنہوں نے اپنے عزیزوں اور جائیدادوں کو اللہ تعالیٰ کے لئے چھوڑا، یہ باور نہیں کیا جاسکتا کہ ایک قافلہ کی آمد سن کر خطبہ جمعہ یا دوران نماز ہی بھاگ پڑے ہوں اور ان میں سے کل بارہ رہ گئے ہوں۔وہ صحابہ جن کے متعلق آسمانی گواہی یہ ہے : رِجَالُ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعَ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلوةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَوةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَبُ فِيهِ القُلوبُ وَالْاَبْصَارُ (النور: ۳۸) حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت دحیہ کلبی کے جس قافلے کا شام سے لوٹنے کا روایات میں ذکر آتا ہے وہ سورۃ جمعہ نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔(دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۴۵،۵۴۴) اس لئے از روئے درایت لفظ فنزلت در حقیقت تطبیق دینے کے معنے میں ہی استعمال کیا گیا ہے اور جمعہ چھوڑ کر بھاگنے والے مخلص مہاجرین اور انصار نہ تھے بلکہ منافقین تھے جن کا ذکر صیغہ مخاطب میں نہیں بلکہ صیغہ غائب سے ازراہ تحقیر کیا گیا ہے۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " ایسے عظیم مرد جنہیں نہ کوئی تجارت اور نہ کوئی خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے یا نماز کے قیام سے یاز کوۃ کی ادائیگی سے غافل کرتی ہے۔وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل (خوف سے الٹ پلٹ ہو رہے ہوں گے اور آنکھیں بھی۔“