صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 231
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۳۱ ۶۵ - کتاب التفسير / الجمعة جب آتا ہے تو بیمار کی طرف ہی رخ کرتا ہے۔اور یہ نہایت تعجب کا مقام ہے کہ بموجب احادیث صحیحہ کے دجال تو ہندوستان میں پیدا ہو اور مسیح دمشق کے میناروں پر جا اُترے۔اس میں شک نہیں کہ مدینہ منورہ سے ہندوستان سمت مشرق میں واقع ہے۔بلاشبہ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ مشرق کی طرف سے ہی دجال کا ظہور ہو گا اور مشرق کی طرف سے ہی رایات سود مہدی اللہ کے ظاہر ہوں گے۔گویا روز ازل سے یہی مقرر ہے کہ محل فتن بھی مشرق ہی ہے اور محل اصلاح فتن بھی مشرق ہی ہے۔اور اس جگہ ایک نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا اللہ جل شانہ نے ظاہر الفاظ آیت میں وَآخَرِينَ مِنْهُمْ کا لفظ استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ لوگ جو کمالات میں صحابہ کے رنگ میں ظاہر ہوں گے وہ آخری زمانہ میں آئیں گے۔ایسا ہی اس آیت میں واخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے تمام حروف کے اعداد سے جو ۱۲۷۵ ہیں اس بات کی طرف اشارہ کر دیا جو اخرین مِنْهُمْ کا مصداق جو فارسی الاصل ہے اپنے نشاء ظاہر کا بلوغ اس سن میں پورا کر کے صحابہ سے مناسبت پیدا کر لے گا۔سو یہی سن ۱۲۷۵ هجری جو آیت وَأَخَرِينَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: ۴) کے حروف کے اعداد سے ظاہر ہوتا ہے اس عاجز کی بلوغ اور پیدائش ثانی اور تولد روحانی کی تاریخ ہے جو آج کے دن تک چونیتس برس ہوتے ہیں۔“ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۰۸ تا ۲۲۰) باب ۲ : وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهُوا ( الجمعة : ١٢) اور جب وہ کسی تجارت یا تماشہ کو دیکھتے ہیں ٤٨٩٩ : حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ :۴۸۹۹ حفص بن عمر نے مجھ سے بیان کیا کہ خالد حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ بن عبد اللہ نے ہمیں بتایا کہ حصین ( بن عبد الرحمن) عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَعَنْ أَبِي نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے سالم بن ابی جعد سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ سے اور ابو سفیان سے روایت کی۔ان دونوں نے عَنْهُمَا قَالَ أَقْبَلَتْ عِيرٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت