صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 230
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۳۰ ۶۵- كتاب التفسير / الجمعة ہے اس کا حال احادیث نبویہ کے رو سے نہایت ہی بد تر معلوم ہوتا ہے۔بیہقی نے اس کے بارے میں ایک حدیث لکھی ہے یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس زمانہ کے مولوی اور فتویٰ دینے والے ان تمام لوگوں سے بدتر ہوں گے جو اس وقت روئے زمین پر موجود ہوں گے۔اور حجج الکرامہ میں لکھا ہے کہ در حقیقت مہدی اللہ (مسیح موعود) پر کفر کا فتویٰ دینے والے یہی لوگ ہوں گے۔اس بات سے اکثر مسلمان بے خبر ہیں کہ احادیث سے ثابت ہے کہ مسیح موعود پر بھی کفر کا فتویٰ ہو گا۔چنانچہ وہ پیشگوئی پوری ہوئی۔غرض وہ زمانہ جو اول زمانہ اور مسیح موعود کے زمانہ کے بیچ میں ہے نہایت فاسد زمانہ ہے۔چنانچہ اس زمانہ کے لوگوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ اَوَّلُهَا وَاخِرُهَا أَوَّلُهَا فِيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآخِرُهَا فِيهِمُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ وَبَيْنَ ذَالِكَ فَيْجُ أَعْوَجُ لَيْسُوا مِی وَلَسْتُ مِنْهُمْ یعنی امتیں دو ہی بہتر ہیں۔ایک اول اور ایک آخر اور درمیانی گروہ ایک لشکر کج ہے جو دیکھنے میں ایک فوج اور روحانیت کے رو سے مردہ ہے۔نہ وہ مجھ سے اور نہ میں ان میں سے ہوں۔حدیث صحیح میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ عِنْدَ القُرَيَا لَنَا لَهُ رَجُلُ مِنْ فَارِسٍ أَوْ رِجَالُ مِنْ فارس پس اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آخری زمانہ میں فارسی الاصل لوگوں میں سے ایک آدمی پیدا ہو گا کہ وہ ایمان میں ایسا مضبوط ہو گا کہ اگر ایمان ثریا میں ہو تا تو وہیں سے اس کو لے آتا اور ایک دوسری حدیث میں اسی شخص کو مہدی کے لفظ سے موسوم کیا گیا ہے اور اُس کا ظہور آخری زمانہ میں بلاد مشرقیہ سے قرار دیا گیا ہے اور دجال کا ظہور بھی آخری زمانہ میں بلاد مشرقیہ سے قرار دیا گیا ہے۔ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص دجال کے مقابل پر آنے والا ہے وہ یہی شخص ہے اور سنت اللہ بھی اسی بات کو چاہتی ہے کہ جس ملک میں دجال جیسا خبیث پیدا ہوا اسی ملک میں وہ طیب بھی پیدا ہو۔کیونکہ طبیب