صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 229
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۲۹ ۶۵ - كتاب التفسير / الجمعة ان کے لئے مانع ہو گا اور نہ کوئی دنیوی اُمید ان کو سست کرے گی۔اور ایمانی قوت انہیں باتوں سے آزمائی جاتی ہے کہ ایسی آزمایشوں کے وقت اور بے ایمانی کے زمانہ میں ثابت نکلے۔سو اس حدیث میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ اس گروہ کا اسی وقت میں آنا ضروی ہے جب کہ اس کی آزمائش کے لئے ایسے ایسے اسباب موجود ہوں اور دنیا حقیقی ایمان سے ایسی دور ہو کہ گویا خالی ہو۔خلاصہ کلام یہ کہ اللہ جل شانہ ان کے حق میں فرماتا ہے کہ وہ آخری زمانہ میں آنے والے خالص اور کامل بندے ہوں گے جو اپنے کمال ایمان اور کمال اخلاص اور کمال صدق اور کمال استقامت اور کمال ثابت قدمی اور کمال معرفت اور کمال خدادانی کی رو سے صحابہ کے ہمرنگ ہوں گے۔اور اس بات کو بخوبی یا د رکھنا چاہیئے کہ در حقیقت اس آیت میں آخری زمانہ کے کاملین کی طرف اشارہ ہے نہ کسی اور زمانہ کی طرف کیونکہ یہ تو آیت کے ظاہر الفاظ سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کامل لوگ آخری زمانہ میں پیدا ہوں گے جیسا کہ آیت وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: ۴) صاف بتلا رہی ہے۔اور زمانے تین ہیں۔ایک اول جو صحابہ کا زمانہ ہے اور ایک اوسط جو مسیح موعود اور صحابہ کے درمیان ہے اور ایک آخری زمانہ جو مسیح موعود کا زمانہ اور مصداق آیت وَاخَرِينَ مِنْهُمُ کا ہے۔وہ وہی زمانہ ہے جس میں ہم ہیں۔جیسا کہ مولوی صدیق حسن مرحوم قنوجی تم بھوپالوی جو شیخ بطالوی کے نزدیک مجدد وقت ہیں اپنی کتاب صحیح الکرامہ کے صفحہ ۱۵۵ میں لکھتے ہیں کہ آخریت این امت از بدایت الف ثانی شروع کر دیده آثار تقوی از اول گم شده بودند و اکنوں سطوت ظاہری اسلام ہم مفقوده شدہ۔تم کلامہ اور یہ تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی زمانے نیک قرار دیئے ہیں۔ایک صحابہ کا زمانہ جس کا امتداد اس حد تک متصور ہے جس میں سب سے آخر کوئی صحابی فوت ہو اہو۔اور امتداد اس زمانہ کا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے وقت تک ثابت ہوتا ہے۔اور دوسرا زمانہ وسط ہے جس کو بلحاظ بدعات کثیرہ اتم الخبائث کہنا چاہیئے اور جس کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیج اعوج رکھا ہے اور اس زمانہ کا آخری حصہ جو مسیح موعود کے زمانہ اقبال سے ملحق