صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 228 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 228

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۲۸ ۶۵ - کتاب التفسير / الجمعة طریقوں کے صرف نبی کریم کی روحانیت کی تربیت سے کمال روحانی تک پہنچادے گا اور اس کو ایک گروہ بنائے گا اور وہ گروہ صحابہ کے گروہ سے نہایت شدید مشابہت پیدا کرے گا کیونکہ وہ تمام و کمال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی زراعت ہو گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان ان میں جاری و ساری ہو گا اور صحابہ سے وہ ملیں گے یعنی اپنے کمالات کے رُو سے اُن کے مشابہ ہو جائیں گے اور ان کو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہی موقعے ثواب حاصل کرنے کے حاصل ہو جائیں گے جو صحابہ کو حاصل ہوئے تھے۔ اور بباعث تنہائی اور بے کسی اور پھر ثابت قدمی کے اسی طرح خدا تعالیٰ کے نزدیک صادق سمجھے جائیں گے کہ جس طرح صحابہ سمجھے گئے تھے۔ کیونکہ یہ زمانہ بہت سی آفتوں اور فتنوں اور بے ایمانی کے پھیلنے کا زمانہ ہو گا اور راستبازوں کو وہی مشکلات پیش آجائیں گی جو صحابہ رضی اللہ عنہم کو پیش آئی تھیں۔ اس لئے وہ ثابت قدمی دکھلانے کے بعد صحابہ کے مرتبہ پر شمار ہوں گے۔ لیکن درمیانی زمانہ فیج اعوج ہے جس میں بباعث رعب اور شوکت سلاطین اسلام اور کثرت اسباب تنعم صحابہ کے قدم پر قدم رکھنے والے اور ان کے مراتب کو ظلی طور پر حاصل کرنے والے بہت ہی کم تھے۔ مگر آخری زمانہ اول زمانہ کے مشابہ ہو گا کیونکہ اس زمانہ کے لوگوں پر غربت طاری ہو جائے گی اور بجز ایمانی قوت کے اور کوئی سہارا بلاؤں کے مقابلہ پر ان کے لئے نہ ہو گا۔ سو ان کا ایمان خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا مضبوط اور ثابت ہو گا کہ اگر ایمان آسمان پر چلا جاتا تب بھی وہ اس کو زمین پر لے آتے۔ یعنی ان پر زلزلے آئیں گے اور وہ آزمائے جائیں گے اور سخت فتنے ان کو گھیریں گے لیکن وہ ایسے ثابت قدم نکلیں گے کہ اگر ایمان افلاک پر بھی ہو تا تب بھی اس کو نہ چھوڑتے۔ سو یہ تعریف کہ وہ ایمان کو آسمان پر سے بھی لے آتے اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ وہ ایسے زمانہ میں آئیں گے کہ جب چاروں طرف بے ایمانی پھیلی ہوئی ہو گی اور خدا تعالیٰ کی سچی محبت دلوں سے نکل جائے گی مگر ان کا ایمان ان دلوں میں بڑے زور میں ہو گا اور خدا تعالیٰ کے لئے بلاکشی کی ان میں بہت قوت ہو گی اور صدق اور ثبات بے انتہا ہو گا۔ نہ کوئی خوف