صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 227
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۲۷ ۶۵ - كتاب التفسير / الجمعة ٤٨٩٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ :۴۸۹۸: عبد الله بن عبد الوہاب نے ہم سے بیان عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ کیا کہ عبد العزیز ( در اور دی) نے ہمیں بتایا کہ ثور أَخْبَرَنِي ثَوْرٌ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ ( بن زيد دیلی) نے مجھے خبر دی۔انہوں نے أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابوالغيث (سالم) سے، ابوالغیث نے حضرت وَسَلَّمَ لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ۔ابو ہریرہ سے ، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔(انہوں نے حدیث طرفه : ٤٨٩٧ - ""۔بیان کی جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ان میں سے کچھ مرد اس تک پہنچ جائیں گے۔ريح : سُورَةُ الجُمُعَةِ : حضرت لفة الحب الرابع رحم اللہ فرماتے ہیں: یہ سورت گزشتہ سورت میں مذکور تمام پیشگوئیوں کی جامع ہے۔اور اس میں جمع کا ہر معنی بیان فرما دیا گیا ہے یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آخرین کو اولین کے ساتھ جمع کرنے کا موجب بنیں گے اور اپنی جلالی اور جمالی صفات کے جلووں کو بھی جمع فرمائیں گے۔“ ( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الجمعۃ صفحہ ۱۰۲۸) وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ : اور ان میں سے کچھ اور ہیں جو ابھی ان سے نہیں ملے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اس جگہ یہ نکتہ یاد رہے کہ آیت وَاخَرِينَ مِنْهُم میں آخَرِيْنَ کا لفظ مفعول کے محل پر واقع ہے۔یعنی ہمارے خالص اور کامل بندے بجز صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور بھی ہیں جن کا گروہ کثیر آخری زمانہ میں پیدا ہو گا اور جیسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس گروہ کی بھی باطنی طور پر تربیت فرمائیں گے۔یعنی وہ لوگ ایسے زمانہ میں آئیں گے کہ جس زمانہ میں ظاہری افادہ اور استفادہ کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اور مذہب اسلام بہت سی غلطیوں اور بدعتوں سے پُر ہو جائے گا اور فقرا کے دلوں سے بھی باطنی روشنی جاتی رہے گی۔تب خدا تعالیٰ کسی نفس سعید کو بغیر وسیلہ ظاہری سلسلوں اور