صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 3
۶۵ - كتاب التفسير / الزمر صحیح البخاری جلد ۱۲ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ ، أَلَا لِلهِ الدِّينُ الخَالِصُ (الزمر: ۴۳) پھر عبد کامل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ اعلان کروایا گیا ہے: قُلْ إِلى أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ (الزمر : ۱۲) یعنی تو کہہ دے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں کہ اطاعت صرف اسی کے لئے مخصوص کر دوں۔يُخَوفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ : ان الفاظ سے آیت اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَ يُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَا په (الزمر: ۳۷) مراد ہے۔یعنی کیا اللہ اپنے بندہ کے لیے کافی نہیں؟ اور وہ لوگ تجھے اُن سے ڈراتے ہیں جو اُس (خدا) کے علاوہ ہیں۔اور جس کو اللہ گمراہ سمجھے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں۔یہ آیت عبد کامل کے رنگ میں رنگین ہو جانے والوں کو بشارت دے رہی ہے کہ تم بھی عید کامل کے رنگ میں رنگین ہو کر خدائے واحد کے بندے بن جاؤ تو تم بھی ہر خوف سے آزاد ہو جاؤ گے اور خدا تمہارا متکفل بن جائے گا۔وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ : مکمل آیت یہ ہے: وَالَّذِی جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَبِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ) (الزمر: ۳۴) کے قتادہ سے ایک روایت ہے کہ الذی جاہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۹۷) امام بخاری نے اس آیت میں الصدق سے قرآنِ کریم مراد لیا ہے اور صداق یہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جس نے اس کی تصدیق کی، اس سے مراد مؤمن ہے جو قیامت کے روز آئے گا، کہے گا: یہی ہے وہ جو تو نے مجھے دیا، جو اس میں تھا میں نے اُس پر عمل کیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک خطبہ جمعہ میں ان آیات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں جس سچی تعلیم کا ذکر ہے اس سے مراد قرآن مجید کی سچی اور تا ابد قائم رہنے والی ہر لحاظ سے کامل و مکمل تعلیم ہے اور اس کو لانے والے وجو د ہا جو د آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور جہاں تک اس کامل و مکمل اور تا قیامت قائم و دائم رہنے والی تعلیم کی تصدیق کا تعلق ہے تو اس سے مراد محض زبانی تصدیق ہی نہیں ہے بلکہ عربی لغت اور قرآنی محاورہ کی رُو سے تصدیق کے معنے اس تعلیم پر صدق دل سے مخلصانہ عمل کرنے کے بھی ہیں۔اس میں زبانی تصدیق اور عملی تصدیق دونوں شامل ہیں۔چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آخری زمانہ میں احیاء و غلبہ اسلام کی غرض سے مہدی علیہ السلام کے مبعوث ہونے کی بشارت دی تو اس میں آپ نے یہی بتایا تھا کہ آنے والا مہدی قرآنی تعلیم کی دلائل و براہین کے ذریعہ زبان سے ہی تصدیق نہیں کرے گا بلکہ اپنے عمل اور اس عمل کے نتیجہ کے طور پر معرض وجود میں آنے والے اپنے رفیع الشان مقام کے ذریعہ بھی اس کی صداقت کو دنیا پر آشکار کر دکھائے گا۔مزید تفصیل کے لیے دیکھئے خطبات ناصر جلد ششم، خطبہ جمعہ فرموده ۱۵/ اگست ۱۹۷۵ صفحه ۱۲۹۔ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : یقینا ہم نے تیری طرف (اس) کتاب کو حق کے ساتھ اتارا ہے۔پس اللہ کی عبادت کر اُسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔خبردار ! خالص دین ہی اللہ کے شایانِ شان ہے۔" ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور وہ شخص جو سچائی لے کر آئے اور (وہ جو ) اس (سچائی) کی تصدیق کرے یہی وہ لوگ ہیں جو متقی ہیں۔“