صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 2
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / الزمر بِجَوَانِهِ مُتَشَابِها (الزمر : ٢٤) لَيْسَ فَوز سے نکلا ہے ، یعنی بامراد ہونا۔حافين مِنَ الْاشْتِبَاءِ وَلَكِنْ يُشْبِهُ بَعْضُهُ مراد ہے کہ انہوں نے اس کا گھیر کر لیا۔بیفاقیہ یعنی چاروں طرف سے گھیر ا کرنے والے۔مُتَشَابِهًا بَعْضًا فِي التَّصْدِيقِ۔اشتباہ سے نہیں بلکہ مشابہت کے معنوں میں ہے۔یعنی تصدیق کرنے میں ایک دوسرے سے ملتی جلتی باتیں ہیں۔أَفَمَنْ يَتَقى بوجه : امام بخاری نے سورۃ الزمر کے مضامین کی کلید کے طور پر بعض آیات اور الفاظ کا انتخاب کیا ہے جو یہ ہیں : أَفَمَن يَتَّقِى بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيمَةِ (الزمر:۲۵) یعنی ” کیا وہ جو قیامت کے دن اپنے چہرے ہی کو سخت عذاب سے بچنے کے لئے ڈھال بنائے گا“ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ آگ میں منہ کے بل گھسیٹا جائے گا۔یعنی قیامت کی سزا سے بچنے کا اُس کا یہ طریق اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا۔پھر اس کی تائید میں آیت اَفمَنْ يُلقَى فِي النَّارِ خَيْرُ اَم مَنْ يَأتي امِنًا يَوْمَ الْقِيمَةِ (حم السجدة: (۴) درج کر کے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ یقیناً خیر میں وہی ہو گا جو قیامت کے دن خوف و خطر سے محفوظ آمن کی حالت میں ہوگا۔ذی عوج سے آیت کریمہ قُرآنًا عَرَبِيَّا غَيْرَ ذِي عِوَج (الزمر:۲۹) کی طرف اشارہ کیا ہے کہ قرآنِ کریم جو غیر ذی عوج ہے، اس پر عمل کرنے والے ہی آمن کی حالت میں ہوں گے۔رَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلِ : ان الفاظ سے آیت ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا نَجُلًا فِيهِ شُرَكَاءُ مُتَشَكِسُونَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلٍ هَلْ يَسْتَوِينِ مَثَلًا (الزمر:۳۰) کی طرف اشارہ کر کے بتایا ہے کہ کسی شخص کے اگر بہت سے مالک ہوں اور مالک بھی ایسے جو آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں تو وہ یقیناً اُس شخص کی نسبت جس کا صرف ایک ہی مالک ہو ، شدید تکلیف اور مصیبت کی حالت میں ہوتا ہے۔ایسا ہی مشرک شخص بھی معبودانِ باطلہ کے تابع شدائد و مصائب میں مبتلا ہوتا ہے ، جبکہ مومن بندہ خدائے واحد کا عبد ہونے کی وجہ سے حالتِ امن میں ہوتا ہے۔یہ آیت کریمہ ہر قسم کے شرک کو ترک کر کے تقوی اللہ اختیار کرتے ہوئے عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کی تعلیم دے رہی ہے اور عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرتے ہوئے عبد کامل بننے کا حکم ہی ہے جو سورہ زمر کا مرکزی مضمون ہے۔جیسا کہ اس سورۃ کے آغاز ہی میں فرمایا گیا ہے: اِنَّا اَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "اللہ ایک ایسے شخص کی مثال بیان کرتا ہے جس کے کئی مالک ہوں جو اللہ آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں اور ایک ایسے شخص کی بھی جو کلیۂ ایک ہی شخص کا ہو۔کیا وہ دونوں اپنی حالت کے اعتبار سے برابر ہو سکتے ہیں۔“