صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 4
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / الزمر مُتَشَابِها : اس لفظ سے اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے کہ اللهُ نَزِّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَبًا مُتَشَابِهَا مَثَانِي تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمُ (الزمر: ۲۴) - امام بخاری نے لفظ متشابا کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ لفظ اشتباہ سے نہیں بلکہ مشابہت کے معانی میں ہے یعنی تصدیق کرنے میں اس کی آیات ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان معانی کو مزید کھول کر بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں: الله نَزَّلَ احْسَنَ الْحَدِيثِ كِتْباً مُتَشَابِهَا مَثَانِي۔۔۔يعنى ذالك الكتاب کتابا متشابه يشبه بعضه بعضا لیس فیہ تناقض ولا اختلاف، مثنى فيه كل ذكر ليكون بعض الذكر تفسير البعضہ۔“ الحق مباحثہ لدھیانه ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۷، ۳۸) یعنی آیت کریمہ اللهُ نَزَّلَ احْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَبا مُتَشَابِهَا مَثانی سے یہ مراد ہے کہ یہ کتاب متشابہ ہے جس کی آیتیں اور مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ان میں کوئی تناقض اور اختلاف نہیں۔ہر ذکر اور وعظ اس میں ڈہرا ڈہرا کر بیان کیا گیا ہے جس سے غرض یہ ہے کہ ایک مقام کا ذکر دوسرے مقام کے ذکر کی تفسیر ہو جائے۔یہ آیت کریمہ قرآنِ کریم کو سمجھنے میں ایک انتہائی اہم امر کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ يُقيرُ بَعْضُهُ بَعْضًا۔یعنی اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی وضاحت کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اصول تفسیر بیان فرماتے ہوئے اس اصل کو سب سے اول رکھا ہے۔آپ فرماتے ہیں: ”سب سے اول معیار تفسیر صحیح کا شواہد قرآنی ہیں۔یہ بات نہایت توجہ سے یاد رکھنی چاہیئے کہ قرآنِ کریم اور معمولی کتابوں کی طرح نہیں جو اپنی صداقتوں کے ثبوت یا انکشاف کے لئے دوسرے کا محتاج ہو۔وہ ایک ایسی متناسب عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ ہلانے سے تمام عمارت کی شکل بگڑ جاتی ہے۔اس کی کوئی صداقت ایسی نہیں ہے جو کم سے کم دس یا ہیں شاہد اس کے خود اُسی میں موجود نہ ہوں۔سو اگر ہم قرآن کریم کی ایک آیت کے ایک معنے کریں تو ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ ان معنوں کی تصدیق کیلئے دوسرے شواہد قرآن کریم سے ملتے ہیں یا نہیں۔اگر دوسرے شواہد دستیاب نہ ہوں بلکہ ان معنوں کے دوسری ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: اللہ نے بہترین بیان ایک ملتی جلتی ( اور ) بار بار دہرائی جانے والی کتاب کی صورت میں اتارا ہے جس سے ان لوگوں کی جلدیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں لرزنے لگتی ہیں۔“